اسرائیلی اسپیکر کی رباط آمد، مراکشی باشندے مزاحمت ہی حل ہے کے نعرے کیساتھ سڑکوں پر آگئے
رباط : اسرائیلی کنیسٹ کے اسپیکر امیر اوہانہ نے کی مراکش آمد کے موقع پر دارالحکومت رباط میں مراکش میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اسرائیل کے عہدیدار کے دورہ پر مراکش کے درجنوں باشندے سڑکوں پر نکل آئے۔ نعرہ بازی کی اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش کیے۔ مظاہرے میں سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔ لوگوں نے "مزاحمت ہی حل ہے” اور "رباط اور فلسطین کے لوگ ایک ہیں دو نہیں” کے نعرے لگائے اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیا۔مراکش نے 10 دسمبر 2020 کو امریکی ثالثی میں مغربی صحارا کے علاقے پر رباط کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے بدلے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات شروع کیے تھے۔ مغربی صحارا 1976 سے مراکش اور پولساریو فرنٹ کے درمیان متنازعہ ہے۔کنیسٹ سپیکر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی حکومت مغربی صحارا کے علاقے پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے ممکنہ اعلان پر بات کر رہی ہے۔”تحریک توحید و اصلاح“ سے وابستہ مراکش انیشی ایٹو فار سپورٹ اینڈ ہیلپ کے رکن عزیز الھناوی نے کہا ہے کہ آج یہ مقبول مو¿قف عجلت میں سپیکر آف دی کنیسٹ کے بدقسمت دورے کے خلاف منظم کیا گیا۔ یہ تحریک بھی ” اعتدال پسند اسلامسٹ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی“ کا ہی ونگ ہے۔عزیز الھناوی نے مزید کہا کہ اس موقف کے ذریعے ہم مراکش صحارا کے معاملے سے گزر کر تعلقات کے قیام کو مسترد کرتے ہیں۔ گزشتہ اڑھائی سال میں جو ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین سے چھلانگ لگا کر تعلقات کو مغربی صحارا کے معاملے پر منتقل کیا گیا ہے۔


