9 مئی کو فوج کے زیر انتظام اداروں اور اسکولز و کالجز بھی ہدف تھے، انٹیلی جنس رپورٹ جی ایچ کیو کو ارسال
اسلام آباد (آن لائن) سانحہ 9 مئی کی منصوبہ بندی اور اس میں ملوث مزید اہم کرداروں کا انکشاف ہوا ہے،تحریک انصاف کے شرپسندوں کا ہدف صرف چند فوجی تنصیبات نہیںتھیں بلکہ فوج کے زیر انتظام اداروں اور سکولز و کالجز کو بھی یہ ہدف بنانا چاہتے تھے ،اس حوالے سے انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں نے اپنی مفصل رپورٹ وفاقی حکومت اور جی ایچ کیوکو بھجوا دی ہے جس میں بھیانک انکشافات سامنے آئے ہیں کہ کس طرح عمران خان اور مقامی قیادت کے حکم پر شدت پسندعناصر افواج پاکستان کے اداروں کو تباہ کرنا چاہتے تھے ،ذرائع کے مطابق شرپسندوں کے اہداف جناح ہاﺅس لاہور،حمزہ کیمپ،راولپنڈی ملٹری لائبریری راولپنڈی،جی ایچ کیوراولپنڈی،آئی ایس آئی آفس فیصل آباد ،پی اے ایف بیس میانوالی ان کے اہداف تھے ،8 مئی کو عمران خان کی جانب سے اہم رہنماﺅں کو215کالز کی گئیں ،یہ ان لوگوں سے رابطے میں تھے جنہوں نے جناح ہاﺅس پر حملہ کیا ،165کے قریب لوگ پیش پیش تھے جن میں37 گرفتار ہو چکے ہیں،یہ165لوگ زمان پارک میں بھی موجود تھے ،اس سانحہ کے بعدخواتین پر زیادتی کے الزامات لگائے گئے جو کہ جھوٹ تھا،جی ایچ کیو راولپنڈی اور فیصل آباد میں حملہ کرنے والے شرپسند مقامی قیادت سے مسلسل رابطے میں تھے ،شرپسندوں نے بھی سرکاری املاک کو نشانہ بنایا ،اس میں شاہراہ فیصل کراچی ،ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت ،پنجاب رجمنٹل سینٹر پر حملہ کیا گیا ،مین ائیر پورٹ لاہور پر حملہ کیا گیا ،بنوں کینٹ پر دھاوا بولا گیا،یہ سب ایک منصوبہ بندی سے ہوا اور اس کی تیاری بہت پہلے کرلی گئی تھی ،اس حملے کے بعد سوشل میڈیا پر جھوٹی مہم شروع کی گئی جس کا مقصد مظلوم بننا اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنا تھا ،جرائم پیشہ خواتین کی گرفتاری کو بھی پی ٹی آئی خواتین کی گرفتاری دکھائی گئی ،عمران ریاض کے قتل کا جھوٹا پراپیگنڈا کیاگیا،عمر ایوب پر تشدد کی پرانی تصاویر چلادیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔


