جامعہ بلوچستان میں اساتذہ و طالب علموں کے درمیان انتشار پھیلانا قابل افسوس ہے، بی ایس او
کوئٹہ (آن لائن) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جامعہ بلوچستان یونٹ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے بیان کو منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے معزز اساتذہ چند لوگوں کی مفادات کی خاطر اے ایس اے کا نام استعمال ہونے مت دیں ترجمان نے کہا ہے کہ جامعہ کے تمام اساتذہ کی عزت اور وقار سب سے مقدم ہے جس کیلئے تنظیم نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے استاد کا پیشہ کسی بھی معاشرے میں اعلی مقام رکھتاہے جامعہ بلوچستان کے اساتذہ بھی کئی مہینوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے مسائل کا شکار ہیں اسکے باوجود معزز اساتذہ کرام اور ملازمین اپنا فرض منصبی نبھاتے رہے ہیں لیکن چند مخصوص لوگ اپنی الیکشن مہم اور دیگر مفادات کے خاطر ہمیشہ زبردستی فیصلے مسلط کرتے رہے جب تنظیم نے ڈیوٹی نہ دینے والے ٹولے کے خلاف پریس کانفرنس کرکے کلاسز کھولنے کی اپیل کی تو یہی لوگ آگ بگولہ ہوکر انتقام لینے کی آگ میں جھلستے رہے۔ اے ایس اے کا نام لیکر اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنا اور اساتذہ و طالب علموں کے درمیان انتشار پھیلانا انتہائی قابل افسوس ہے ترجمان نے اے ایس اے کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان نفرت،تعصب اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ تنظیمی اراکین نے کسی بھی استاد کے ساتھ غلط رویا اختیار نہیں کیا البتہ کچھ شعبہ جات میں میرٹ کے برعکس داخلوں پر احتجاج ضرور کیا جسکے بعد ان چند لوگوں نے کلاس نہ لینے کا بہانا ڈھونڈتے ہوئے شعبہ فارمیسی کو زبردستی بند کیا ہے شعبہ کی بندش سے نہ صرف طالب علم پریشان ہیں بلکہ باقی اساتذہ کرام چند لوگوں کی اس زبردستی کے فیصلے سے نالاں ہیںہماری تنظیم روایتوں کی امین ہے استاد کا عزت تنظیمی منشور کا حصہ ہے ہمیشہ اپنے اساتذہ کے ساتھ ملکر انکی حقوق کیئے جدوجہد کی ہے ترجمان نے بیان کے آخر میں تمام معزز اساتزہ کرام سے اپیل کی ہے ان چند لوگوں پر مشتمل ٹولے کو اے ایس اے کا نام لینا مت دے تمام اساتذہ اس جعلی بیانیے سے بائیکاٹ کرکے طلبا کے درمیان انتشار پیدا کرنے والوں کو ریجکٹ کریں دریں اثنا انھوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شعبہ فارمیسی کی بندش کانوٹس لیکر متعلقہ ذمہ داران سے جواب طلبی کی جائے۔


