حکومت بلوچستان خواتین کو سیاسی، سماجی اور معاشی طوپر با اختیار بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے، ہارڈ کا مطالبہ

کوئٹہ : غیر سرکاری تنظیم ہارڈ بلو چستان کے رہنماضیابلوچ نے کہا ہے کہ خواتین کو تمام شعبوں میں درپیش مسائل کے حل کو یقینی بناتے ہوئے انہیں روزگار کی فراہمی ، شناختی کارڈ کے حصول کو یقنی بناتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتیں زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دے کر اس سسٹم کا حصہ بنائیں تاکہ وہ مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں یہ بات انہوں نے ہفتہ کواپنی دیگر ساتھیوں روبینہ بلوچ، شریفہ احمدی، بی بی زھرا، سمرین، کائنات ،امیرہ بی بی کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہ ملتی ہے اس کے ساتھ انکی سماجی حیثیت بھی کم ہو جا تی ہے خواتین کی تر قی، قومی پا لیسی، انسانی حقوق سے متعلق ایک قومی منصوبہ ، کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کئے جا نے کے خلاف تحفظ اور سیا سی جماعتوں کے لئے اسی طرح بلو چستان کو پاکستان کے تناظر میں بالعموم اور دنیاکو بالعموم نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے بلو چستان میں بہت سے ایسے خاندان اس رسم کو اپنا تے ہیں کہ کمانے کے عمل میں مردوں کو شامل کیا جائے اور خواتین کا کام یہ ہے کہ گھر میں رہیں اور خاندان کا خیال رکھیں حکومت خواتین کو انکے بنیادی حقوق سے آگاہ کر نے کے لئے کرداد ادا کرے جس سے وہ بلو چستان میں محروم ہیں بلو چستان میں خواتین اہم عہدوں پر فائز ہو نے کے باوجود اپنے کام کی جگہوں اور سیا سی جماعتوں میں مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں، حکومت بلو چستان سے مطالبہ ہے کہ وہ خواتین کو سیا سی سماجی اور معاشی طوپر با اختیار بنا نے کے لئے اقدامات اٹھائیں جس میں سیا ست اور زند گی کے تمام شعبوں میں ان کی بھر پور اور موثر شرکت ،صنفی مساوات کو فروغ دینااور آگے بڑھانا شامل ہے بہت سے شہری سائبر ہراسمنٹ کی صورت میں ان کے لئے دستیاب راستے نہیں جانتے جوکہ بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل دنیامیں خواتین کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں نیم شہری اور دیہی علا قوں میں موبائل رجسٹر یشن کی تعداد میں اضافہ کیا جائے جانا چاہیے کیونکہ بلو چستان کے 34اضلاع کے لئے 13ایم آر وی انتہائی کم ہیں صرف جمعہ کا دن خواتین کے لئے ایک ہفتے میں شناختی کارڈ کے لئے درخواست دینے کے لئے مخصوص ہے جو کہ خواتین کے ساتھ امتیا زی سلوک ہے کوئٹہ میں بلدیا تی ادارے تحلیل ہو چکے ہیں لیکن حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کروارہی ہے جس کے نتیجے میں عوام مشکلات کا شکار اور اپنے حقوق سے محروم ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ تعلیم نے اساتذہ کی تعیناتی میرٹ پر کی جائے اور سر دار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں تمام مسائل کو جلد از جلد حل کیاجائے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو زیادہ ٹکٹ دے کر لوکل گورنمنٹ کا حصہ بنا یا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے عوام کی خدمت کو یقینی بناسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں