دکی ، کوئلہ کان میں پھنسے 2 کاکنوں کو 39 ویں روز بعد بھی نہ نکالا جاسکا
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے علاقے دکی کے مقامی کوئلہ کان میں پھنسے2کاکنوں کو 39ویںروز بعد بھی نہیں نکالا جاسکابلوچستان کے علاقے دکی کے مقامی کوئلہ کان میں پھنسے د وکاکنوں کوآج ویں39روز بعد بھی نہیں نکالا جاسکا،دو کان کن ابھی تک کان میں پھنسے ہیںبلوچستان کے شمال مغربی علاقے دکی میں ایک ماہ9روز قبل دوکن کن کوئلے کی کان میں پھنس گئے تھے شدید بارشوں کی وجہ سے کان بیٹھ گئی جس سے کان کن اندر ہی پھنس گئے تھے،ضلعی انتظامیہ کوئلہ کان میں پھنسے کارکنوں کے لواحقین کی ان کے زندہ لوٹنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیںلواحقین اب وہ ان کی میتیں ملنے کی امید لگائے بیٹھے ہیںیہ واقعہ4مئی کوئٹہ سے 320کلومیٹر دور ضلع دکی میں واقع ایک کان میں پیش آیاتھا لواحقین نے کہا ہے کہ کوئلہ کان میں پھنسے کان کنوں میں ایک 22سالہ عبدالباقی اور دوسرا 26سالہ شرف الدین ہے ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر محکموں کی جانب سے ریسکیوآپریشن بھی روک دیا گیا ہے کان کنوں کی جانب سے اپنی مددآپ کے تحت جاری کان میں کھدائی کا کام بھی روک دیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ کے مطابق ریسکیو ورکرز اب تک900فٹ گہرائی تک کھدائی کرکے جا چکے ہیںکان کنوں کے زندہ نکلنے کا امکان بہت کم ہے کیونکہ اب وقت بہت گزر چکا ہے اگر وہ اب بھی پھنسے کان کن زندہ نکل آتے ہیں تو یہ ایک معجزہ ہو گابلوچستان میں کائلہ کانوں میں سیفٹی سمیت دیگر سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث آئے روزواقعات رونما ہورہے ہیںکوئلہ کانوں میں مختلف حادثات میں ابتک سینکڑوں کان کن مزدوروں کی زندگیوں کے چراغ گل ہوچکے ہیںکان کن سہولیات کی عدم فراہمی کے باجود پہاڑوں کو سینہ چھیر کا کوئلہ تو نکال رہے ہیںکوئلہ کانوں میں آکسیجن،صحت کی بنیادی سہولیات سمیت کان کنوں کو کسی قسم کی آگاہی نہیں دی گئی ہے


