تحفظات دور نہ کئے گئے تو بجٹ کے روز صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائیگا، آل پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف فیڈریشن
ہرنائی (یو این اے )وفاقی بجٹ اور سندھ حکومت کی جانب سے ملازمین کو 35 فیصد اور پنشنرز کو 17.5 فیصد تنخواہوں میں اضافے کے بعد صوبائی کابینہ حکومت اور وزیراعلی کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشنرز میں 10 فیصد اضافہ مسترد کرتے ہیں۔تمام ملازمین تنظیموں اور پنشنرز سے مل کر سخت لائحہ عمل تیار کرینگے۔احتجاج میں بجٹ کے دن اسمبلی کا گھیراؤ سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔آل پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف فیڈریشن ہرنائی کے ایک بیان میں وزیر اعلی بلوچستان اور صوبائی کابینہ کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں میں وفاقی بجٹ اور سندھ کے بجٹ کیاعلان کردہ 35 فیصد اضافے کے بجائے 15 فیصد اور پنشنرز کے وفاقی بجٹ اور سندھ کے بجٹ اعلان کردہ 17.5 فیصد کے بجائے 10 فیصد فیصلہ مسترد کرتے ہوئے دیگر تمام ملازم تنظیموں اور پنشن ہولڈرز سے مل کر سخت احتجاج کرینگے۔اگر ملازمین کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو بجٹ کے روز صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائیگا۔آئین کے مطابق تمام صوبے اس بات کا پابند ہیں جو اقدام وفاق اٹھاتا ہے صوبے اس پر عمل درآمد کے پابند ہونگے۔اب جبکہ وفاق کے اعلان کے بعد سندھ حکومت نے بھی اپنے ملازمین کے تنخواہوں میں 35 فیصد اور پنشن ہولڈرز کے پنشن میں 17.5 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔مگر افسوس کہ وزیر اعلی بلوچستان نہ وفاق کو مانتے ہیں نہ آئین کو بلکہ ملازمین کو نان شبینہ کا محتاج بناتے ہوئے احتجاج پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ عوام کو مصائب اور مشکلات کا سامنا رہے۔وزیر بلوچستان اور صوبائی کابینہ کا فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئیمطالبہ کرتے ہیں۔کہ وفاقی بجٹ کے اعلان کردہ اعلن پر من و عن عمل درآمد کیا جائے۔اور ملازمین کو 35 جبکہ پنشن ہولڈرز کو 17.5 فیصد تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا جائے بصورت دیگر سخت دما دمست ہوگا


