مجھے پروفیسرسے چپڑاسی لگادو

تحریر: پروفیسرغلام دستگیرصابر
میں ایک سرکاری کالج میں اسسٹنٹ پروفیسرہوں مگراب میری خواہش ہے کہ حکومت مجھے پروفیسر کی جگہ وزیراعلی ہاوس یا گورنرہاوس میں چپڑاسی یاچوکیدار بھرتی کرے۔ میں پہلے کلرک تھا میرے دشمن نمادوست مسلسل مجھے اکسارہےتھے کہ تم اردو اور براہوئی کی چھ کتابوں کے مصنف ہو ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعر بھی ہوتم کیوں پروفیسر نہیں بنتے؟وہ میری اتنی تعریفیں کرتے تھے گویامیں ارسطو اور افلاطون کا استاد ہوں۔ یہ ناظم حکمت، فیض احمدفیض، محمود درویش، ٹالسٹائی، چیخوف گل خان نصیر، علامہ اقبال، خلیل جبران وغیرہ جیسے ادیب و شاعر میرے سائے کے بھی برابرنہیں۔ تب میں ان کی سازشوں میں آیاخود کو عظیم شاعر و ادیب سمجھ کرخوب محنت کی۔کمیشن کے امتحان میں اپنے سبجیکٹ میں ٹاپ کیا۔پھر ایم۔فل کی ڈگری بھی سابقہ صدر پاکستان ممنون حسین نے اپنے ،، دست مبارک،، سے مجھے دی۔ ابھی میں پی۔ایچ۔ڈی کا اسکالر ہوں اگرپی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی لوں تومیری تنخواہ کتنی بڑھے گی؟؟ پانچ ہزار۔جی ہاں پانچ صرف پانچ ہزار۔لیکن ابھی بہت پشیمان ہوں کیونکہ مجھےکسی بے شرم دوست نے مشورہ نہیں دیاکہ کسٹم میں سپائی بنو واپڈا میں لائن مین بنو یا کم ازکم وزیراعلیٰ ہاوس یا گورنرہاوس میں چوکیدار یا چپڑاسی بنو۔ ابھی وہ مجھے دیکھ کرکہتے ہیں۔کیسے ہو ماشٹریار؟؟ ویسے بھی لفظ ماسٹراب مزاق بن گیاہے مردم شماری، الیکشن یا جو بھی کام ہوانھی ماسٹروں سے لیتے ہیں۔جن بچوں کے ناک یہی استاد صاف کرتے۔ جن کے پیشاب کے بعد شلواربھی یہی ماسٹرپہناتے۔ جن کے ہاتھوں میں قلم تھماکر انھیں زیورتعلیم سے آراستہ کرتے وہی ڈاکٹر، بیوروکریٹ، انجینئر حتا کہ الف بے سے ناواقف خیراتی اور بوٹ چاٹ سیاستدان اورعوامی نمائندے بھی بڑی بے شرمی سے ماسٹروں کامزاق اڑاتے ہیں آج ایک ڈاکٹردو سے پانچ لاکھ تنخواہ لے رہاہے ایک بیوروکریٹ اصل تنخواہ رشوت اورکمیشن کے علاوہ پچاس ہزارسے ڈیڈھ لاکھ اضافی تنخواہ لے رہاہے۔حالیہ بھرتی ہونیوالے جے۔وی ٹی کی تنخواہ کتنی ہے؟؟صرف بیس ہزارتاپچیس ہزار۔سیکریٹریٹ کے ایک جونیئرکلرک کواصل تنخواہ کے علاوہ بجلی اورگیس کے مدمیں 6000، اسپیشل الاونس 3409 اور ہاوس ریکوزیشن کے مدمیں 17209 روپے ملتا ہے۔ پھربھی سب ٹیچر پر بھونکتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات گزشتہ سال 14دسمبرکو ایک نوٹیفیکیشن کے زریعے وزیراعلیٰ ہاوس کے ملازمین کی تنخواوں میں سو فیصدجی ہاں سوفیصد اضافہ کیاگیا۔اورآج دوبارہ طویل نیند کے بعدہڑبڑاکراٹھنے والے وزیراعلیٰ نے دوبارہ سوفیصد اضافہ کیا۔ سوناچاندی اورگیس اگلتی سرزمین بلوچستان کے ملازمین بہ شمول خواتین نے ڈسپیرٹی الاونس کے لئے دس دن مسلسل دھرنادیا۔ نتیجہ زیرو۔ حکمرانوں نےشرم وحیا کی تمام حدیں پارکیں۔اب جی۔ٹی۔اے کے معزز اساتذہ ایک ہفتے سے بھوک ہڑتال پر بھیٹے ہیں میرے چھوٹے بھائی بیبرگ بلوچ اور کئی معززاساتذہ موت اور زیست کی کشمکش میں مبتلاہیں۔ان کے والدین اورمعصوم بچے اپنے پیاروں کی زندگی کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔حکمرانوں اوراتحادیوں نے شرم کی تمام حدیں پارکرلی ہیں۔ اب ہاتھ باندھ کر حکومت بلوچستان سے اپیل کرتاہوں کہ تمام اساتزہ سمیت مجھے بھی پروفیسرسے وزیراعلیٰ ہاوس میں چپڑاسی بھرتی کریں۔ کیونکہ یہ ڈگریاں، یہ محنت، یہ قوم کے معمار، معزز استاد کے جھوٹے القابات یہ بے فائدہ کے گریڈ۔ یہ سب بھاڑمیں جائیں۔ ان سے ہم اپنے بچوں کواعلی تعلیم نہیں دلاسکتے ان سے اب ہم اپنی سفیدپوشی بھی برقرارنہیں رکھ سکتے۔ہماری سماجی حیثیت کالوگ مزاق اڑاتے ہیں رشوت خوراورکرپٹ ملازمین کے بچے ہمارے بچوں کامزاق اڑاتے ہیں۔جبکہ وزیراعلیٰ ہاوس میں چپڑاسی بھرتی ہوکر دیگر سہولیات کے علاوہ ہرسال سوفیصد اضافی تنخواہ،ہاوس ریکوزیشن، کئی یوٹیلٹی الاونس ملنے کے بعد کم ازکم ہمارے بچے عیش کرینگے۔ میں بقائمی ہوش وحواس التجاکرتاہوں کہ ہم پراورہمارے معصوم بچوں پررحم کھاکر مجھ سمیت تمام اساتزہ کو وزیراعلیٰ ہاوس،گورنرہاوس میں چپڑاسی بھرتی کریں۔جس ملک میں معززاساتذہ بھوک ہڑتال پر بھیٹے ہوں وہاں حکومت اور اتحادیوں کوشرم نہیں آتی وہاں سڑکوں پربھوک ہڑتال کرنے کی بجائے بڑی تنخواہیں دیکر بطور چیڑاسی یاچوکیداروزیراعلیٰ ہاؤس میں کام کرکے شرم نہیں آئیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں