خیبرپختونخوا کا وفاق سے بقایات کی ادائیگی کا مطالبہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے چشمہ رائٹ بینک کنال لفٹ پروجیکٹ کو صوبے کی زرعی خود کفالت کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کو خصوصی بنیادوں پر نئے مالی سال کے لئے وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی ) میں شامل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے وفاق سے بقایات جات کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ مطالبہ انہوں نے بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزراء کے ساتھ چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

محمود خان نے کہا کہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ کنال خیبرپختونخوا کے ساتھ ساتھ پنجاب کے لئے بھی برابر اہمیت کا حامل ہے جسے دونوں صوبوں میں لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی زیر کاشت آئے گی اورزرعی اجناس کی کمی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کی موجودہ صورتحال میں غذائی اجناس میں خود کفالت اور فوڈ سیکیورٹی وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کی بھی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ لہٰذا اسی تناظر میں بھی مذکورہ منصوبے کوعملی جامہ پہنانا وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے فورم سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لئے تینوں صوبوں کی طرف سے این ایف سی میں سے اپنے اپنے حصے کے تین فیصد دینے کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس کو من و عن پورا کیا جائے اور ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کو اس فنڈ کی بروقت ادائیگی کو ممکن بنانے کے لئے ماخذ سے کٹوتی کا میکینزم بھی بنایا جائے تاکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی تیز رفتار ترقی کو ممکن بنایا جا سکے۔

پن بجلی کے خالص منافعوں کی مد میں صوبے کو بقایا جات کی ادائیگیوں کے حوالے سے صوبے کا موقف پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت اور واٹر ریسورس ڈویژن کے درمیان جو معاہدہ طے پایا ہے اسی کے مطابق صوبے کو بقایاجات کی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ صوبائی حکومت اسی حساب سے اگلے مالی سال کے لئے اپنے ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دے سکے۔

اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے کہا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی تیز رفتار ترقی اور ان کو صحیح معنوں میں قومی دھارے میں شامل کرنا صرف خیبرپختونخوا حکومت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے جس کے ساتھ ملکی امن و امان کا معاملہ جڑا ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی علاقوں کی قانونی اور انتظامی انضمام کے حوالے سے اپنے حصے کا کردار بخوبی انجام دیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ دیگر صوبے بھی اپنے کئے ہوئے وعدوں کے مطابق کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں