کسٹم حکام تاجروں کا مال پکڑ کر اسمگلنگ کا رنگ دے دیتے ہیں، کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو شٹر ڈاﺅن کریں گے، انجمن تاجران

کوئٹہ (این این آئی) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پرکوئٹہ سمیت بلو چستان کے مختلف اضلاع میں کسٹمز حکام کی جانب سے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے جا ری کارروائیوں میں تاجروں کا کاروبار متاثر ہورہا ہے۔ وفاقی وزراءکو موجودہ حالات سے آگاہ کرنے کے باجوود کسٹمز حکام کی کارروائیاں جاری ہیں، کسٹمز حکام نے اپنی کارروائیوں کو بند نہیں کیا تو ہم مجبوراً شٹر ڈاﺅن ہڑتال کا اعلان کریں گے۔ یہ بات انہوں نے میر یاسین مینگل، سعد اللہ اچکزئی سمیت دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ چینی کی اسمگلنگ کو فوری طور پر بند کیا جائے جس کے بعد کسٹمز اور کسٹمز انٹیلی جنس نے فائدہ اٹھاتے ہوئے بارڈرز کے بجائے ہزار گنجی اور دیگر گوداموں میں رات گئے، چھاپے مار کر انہیں سیل کردیا اور وہاں پر موجود سامان کسٹمز ہاﺅس منتقل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ خضدار، واشک، مستونگ، حب کے علاوہ تمام چھوٹے بڑے شہروں کے گوداموں پر چھاپہ مار کر انہیں سیل کردیا گیا ہے تاجروں کا مال اسمگلرز کا نہیں ہے، کسٹمز نے یہ رنگ دیا ہے کہ قبضے میں لیا گیا سامان اسمگلرز کا ہے لیکن وہ تمام مال تاجروں کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام چینی ڈیلرز نے عدالت سے رجوع کرکے اسٹے لیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر عدالت کی طرف سے کسٹم کے حق میں فیصلہ آتا ہے کہ تو تب بھی سب سے پہلا حق چینی ڈیلرز کا ہے کہ انہیں آکشن کے ذریعے دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسٹمز نے قبضے میں لی ہوئی چینی یوٹیلیٹی اسٹورز میں سپلائی کی تو یوٹیلیٹی اسٹورز اپنے نفع نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کسٹمز حکام کو پچاس کلو میٹر کے ایریے تک چھاپہ مارنے کی اجازت ملی ہے لیکن اس کے برعکس کوئٹہ، خضدار، مستونگ اور واشک میں گوداموں، دکانوں اور گاڑیوں کو روک کر ان کیخلاف مقدمات بنائے جارہے ہیں جس کی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کرکے انہیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کرچکے لیکن اس کے باجوود آج تک مختلف شہروں میں تاجروں کے گوداموں پر چھاپے مارے کر چینی، کھاد سمیت دیگر اشیاءقبضے میں لی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز حکام نے اپنی کارروائیوں بند نہیں کی تو ہم مجبوراً شٹر ڈاﺅن ہڑتال کا اعلان کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمگلرز اسمگلنگ کی غرض سے اپنا سامان کوئٹہ نہیں لاتے بلکہ جہاں انہوں نے اسمگلنگ کر نی ہو تی وہیں سیدھا پہنچاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں