چاغی، ریکوڈک مائننگ کمپنی کے کنٹری منیجر نے مشکی چاہ اسکول کا افتتاح کردیا

چاغی(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے ضلع چاغی کے گاؤں مشکی چاہ میں ایک پرائمری اسکول کی افتتاحی تقریب کی میزبانی ریکوڈک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) نے کی۔ مشکی چاہ میں اس تعلیمی منصوبے پر سرمایہ کاری کی سفارش آر ڈی ایم سی کی تشکیل کردہ پراکوہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کمیٹی (سی ڈی سی) نے کی تھی۔ پراکوہ سی ڈی سی قریبی دیہات جیسے کہ ہمے، مشکی چاہ، نوک چاہ اور دوربن چاہ کے مقامی عمائدین و دیگر شراکت داروں پر مشتمل ہے۔
اپنے آپریشنز کے علاقے میں سی ڈی سی کی تشکیل اور باضابطہ طور پر فعالیت کے لیے آر ڈی ایم سی ٹیم نے مقامی کمیونٹیز میں متنوع شراکت داروں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کو ادارہ جاتی بنانے کا آغاز کیا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ریکوڈک انتظامیہ کی جانب سے سماجی ترقی کے منصوبوں پر فیصلے کیے جانے پر مقامی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ یہ ان منصوبوں کی وسیع ملکیت کو بھی یقینی بناتا ہے جن میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے کیونکہ فیصلہ سازی کے عمل میں مقامی کمیونٹیز شامل ہوتی ہیں۔
نئے افتتاح شدہ پرائمری اسکول میں 32 بچوں کی اندراج ہے جن میں 14 لڑکیاں شامل ہیں۔ اس اسکول سے تحصیل نوکنڈی کی چھوٹی سی گاؤں مشکی چاہ کی پوری آبادی استفادہ حاصل کرے گی۔ اس سال کے شروع میں ہمے میں پرائمری اسکول، جو آر ڈی ایم سی کی سماجی ترقی کے اہداف کا بھی حصہ ہے، نے 69 طلباء کے اندراج کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔
مشکی چاہ اسکول کو ریکوڈک مائننگ کمپنی نے تعمیر کیا تھا جسے آر ڈی ایم سی انتظامیہ کی نگرانی کے تحت تیسرے فریق کے ذریعے چلایا جائے گا۔ فی الحال کمپنی کی جانب سے خواتین اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کے لیے انٹرویوز کیے جا رہے ہیں۔ آر ڈی ایم سی پاکستان میں بیرک گولڈ کارپوریشن کی ذیلی کمپنی کے طور پر کام کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے لیے بیرک کے عزم کا اشتراک کرتی ہے۔
آر ڈی ایم سی کے کنٹری منیجر علی احسان رند نے اس موقع پر کہا: "ضلع چاغی میں ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ذریعہ افتتاح کیا گیا دوسرا پرائمری اسکول اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ نیا ریکوڈک معاہدہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس منصوبے کے فوائد تجارتی آپریشن شروع ہونے سے پہلے چاغی کے لوگوں کو ملنا شروع ہوں۔ ہم سب کو پراکوہ سی ڈی سی کا حصہ ہوتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے اور ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے پر فخر ہے جو ہماری مقامی کمیونٹیز کو فائدہ پہنچاسکتے ہیں۔”
خیال رہے کہ ریکوڈک کم از کم چالیس سال کی زندگی کے ساتھ کثیرالنسل کان ہوگی۔ اپنی تعمیر کے ابتدا میں اس منصوبے میں سات ہزار پانچ سو افراد کو ملازمت دینے کی توقع ہے اور ایک بار پیداوار میں آنے پر یہ منصوبہ چار ہزار طویل المدتی ملازمتیں پیدا کرے گی۔ مقامی روزگار اور سپلائرز کو ترجیح دینے کی بیرک کی پالیسی کا مقامی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ کمپنی 2024 کے آخر تک ریکوڈک کی فزیبلٹی اسٹڈی کی تجدید کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں 2028 کو ملک کے صوبہ بلوچستان میں تانبے اور سونے کی دیوہیکل کان سے پہلی پیداوار کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ریکوڈک ایک عالمی معیار کی تانبے اور سونے کی کان ہے جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے منصوبوں میں سے ایک ریکوڈک کا پچاس فیصد حصہ بیرک گولڈ کارپوریشن کے پاس ہے، پچیس فیصد تین وفاقی سرکاری اداروں کے پاس ہے، پندرہ فیصد صوبہ بلوچستان کے پاس سرمایہ کاری کے ساتھ اور دس فیصد مفت میں صوبے کے پاس ہے۔ بیرک اب اس منصوبے کی 2010 کی فزیبلٹی اور 2011 کی توسیع شدہ فزیبلٹی اسٹڈیذ کی تجدید کر رہا ہے جو 2024 تک مکمل ہوگی۔ جبکہ 2028 کو پہلی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ریکوڈک کا ٹرک اور بیلچے کے کھلے گڑھے کے آپریشن کے طور پر کم از کم 40 سال تک چلنے کی امید ہے جس میں پروسیسنگ کی سہولیات کے ساتھ اعلیٰ معیار کے تانبے اور سونے کا کنسنٹریٹ تیار کی جائیں گی جس کی تعمیر 80 ملین ٹن سالانہ کی مشترکہ صلاحیت کے ساتھ دو مرحلوں میں متوقع ہے۔ ریکوڈک پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا جس سے صوبہ بلوچستان پر تبدیلی کے اثرات مرتب ہوں گے جہاں اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کے علاوہ یہ کان روزگار کے مواقع بھی پیدا کرکے علاقائی معیشت کی نمو کو فروغ دے گی اور ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں