بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کو کھلی چھوٹ دیکر حالات خراب کرنیکی سازش کی جارہی ہے، خورشید جمالدینی

نوشکی (این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن میر خورشید جمالدینی نے وڈھ میں ایک مرتبہ مخدوش صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وڈھ میں مخدوش صورتحال کی تمام تر ذمہ داری ڈیتھ اسکواڈ اور ان کے درپردہ حامیوں پر عائد ہوتی ہے، بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر ڈیتھ اسکواڈ کو کھلی چھوٹ دے کر حالات خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے خصوصاً وڈھ میں ڈیتھ اسکواڈ اور انکے حامیوں کو لوگوں کے جان و مال کو لوٹنے، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ کی مکمل چھوٹ دی گئی ہے تاکہ قائد بلوچستان سردار اختر مینگل کو بلوچ کاز کے لئے اٹھانے والی آواز کی سزا دی جائے اور انہیں بلوچ عوام کے حقوق، ان کی سیاسی جدوجہد سے دستبردار کرکے انہیں اور ان کے خاندان کو خونی جنگوں میں دھکیلا جائے۔ وڈھ میں مخدوش صورتحال پیدا کرنا، ڈیتھ اسکواڈ کو ہر قسم کی آزادی دینا، اسی کا پیش خیمہ ہے۔ ادارے اور اسٹیبلشمنٹ اپنی پرانی روش پر قائم و دائم ہے اور انہیں تقویت دے رہے ہیں، سانحہ توتک میں اجتماعی قبروں اور بلوچ فرزندوں کے قاتلوں کو مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ وڈھ میں آئے روز قبائلی افراد، تاجروں، ٹرانسپورٹرز کو ڈیتھ اسکواڈ اغوا برائے تاوان، قتل اور فائرنگ کے ذریعے قائد بلوچستان سردار اختر مینگل کا گھیرا تنگ کرنا چاہتی ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وڈھ میں کوئی قبائلی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ظالم و مظلوم،حق اور باطل کی جنگ ہے جس کی تمام تر ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ گروہوں نے نہ صرف وڈھ بلکہ بلوچستان بھر میں لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ اسلحہ کے زور پر لوگوں کو یرغمال بنانا، اغوا، ڈکیتی سمیت تمام سماج دشمن سرگرمیوں میں یہی عناصر ملوث ہیں جنکے خلاف انتظامیہ اور حکومت کوئی کارروائی کرنے سے ہچکچاتی ہے اور ڈیتھ اسکواڈ کی مکمل سرپرستی کرتی ہے، بلوچستان کے عوام کو مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑا دیا گیا ہے اور انہی مسلح گروہوں کی ظلم و زیادتیوں کیخلاف آج وڈھ کے پرامن عوام بھی مجبوراً بندوق اٹھا کر مورچہ بند ہوگئے ہیں۔ وڈھ کے عوام تنگ آمد بجنگ آمد پر مجبور ہیں، حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ ایسے عناصر کیخلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے مسلسل گریزاں ہے، جس سے عوام خود قانون کو ہاتھ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ وڈھ میں جان بوجھ کر مخدوش صورتحال پیدا کرکے قائد بلوچستان سردار اختر مینگل کیخلاف محاذ بنایا جارہا ہے تاکہ انہیں مسائل میں الجھا کر بلوچ کاز سے دستبردار کرایا جائے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں سردار اختر مینگل ایک قبیلہ، ایک پارٹی کے نہیں بلکہ وہ تمام بلوچ قوم کے لیڈر اور قومی رہنما ہیں وہ قومی راہشون سردار عطاءاللہ خان مینگل کے فرزند و سیاسی جانشین ہیں ان کیخلاف کسی بھی کارروائی کی بلوچ قوم ہرگز اجازت نہیں دے گی اور ان کی ایک آواز پر پورا بلوچ قوم اٹھ کھڑی ہوگی اس لئے ادارے اور اسٹیبلشمنٹ ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے مسلح گروہوں اور ڈیتھ اسکواڈز کو نکیل ڈالیں، بصورت دیگر ہم ہر راست قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں