ماشکیل میں بجلی کا مسئلہ سنگین ہوگیا، شدید گرمی میں لوگ بے حال، کوئی پرسان حال نہیں
ماشکیل (آئی این پی) ماشکیل میں بجلی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے سرحدی تحصیل ماشکیل میں بجلی کا مسئلہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لیتا ماشکیل جیسے ریگستانی علاقے میں جون کے شدید ترین گرمی میں کلی جلال آباد کا ٹرانسفارمر گزشتہ دو مہینے سے خراب ہے اہل محلہ کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ لوگوں نے متعدد بار اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کر کے مرمت کی ہے لیکن مستقل طور پر بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہوئی ہے بار بار چندہ جمع کر کے لوگ تنگ آ گئے ہیں دوسری جانب متعلقہ حکام اور علاقائی نمائندے اس بابت اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے کلی جلال آباد کے باسیوں نے چیف کیسکو واپڈا حکام اور حکومت وقت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جون کے شدید ترین گرمی کو مدنظر رکھتے ہوئے بلاتاخیر کلی جلال آباد میں نئے ٹرانسفارمر کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے تاکہ لوگوں کی مشکلات دور ہو سکیں،سیندک گولڈ اینڈ پراجیکٹ کا شمار دنیا کے بہترین پراجیکٹ میں ہوتا ہے جہاں اس وقت پاکستان اور ہمسایہ ملک چین کی اشتراک عمل سے پراجیکٹ چل رہا ہے لیکن وہی پر آس پاس کے کلیوں کے لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے کیونکہ اتنے بڑے پراجیکٹ نے سیندک اور اس پاس کی آبادی کیلئے تاحال ایک بہترین تعلیمی ادارے بنانے میں کامیاب نہ ہوسکیں اور ساتھ ہی ساتھ سرکاری سکولوں کی حالت زار پر بھی توجہ دینے سے قاصر ہے علاقے کے معتبرین نے متعدد بار ایم ڈی سیندک پروجیکٹ سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے لیکن تاحال انکی اس مطالبے پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے ایک رپورٹ کیمطابق روزانہ کروڑوں روپے کے کاپر اور سونا نکالا جاتا ہے اس پاس کی آبادی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں رہائش کیلئے نہ کوئی سہولت اور نہ ہی کلیوں میں امدورفت کیلئے کشادہ سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے کلی مکینوں کا کہنا ہے کہ افسیران کو ہر قسم کی سہولت میسر ہے رہائش کیلئے بہترین بنگلوز، گاڑیاں اور انکی دفاتر تک پکی سڑکیں بنائی گئی ہے جبکہ مقامی آبادی کو دیوار تک لگانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیندک کے سی ایس آر فنڈز بھی سیندک کے آس پاس کے آبادی کیلئے خرچ نہیں کیا جاتا ہے جوکہ یہاں کے عوام کیساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہیں علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ سیندک کے آس پاس آبادی کیساتھ ظلم و ناانصافیوں کا خاتمہ ہونا چائیے اور ساتھ ہی ساتھ علاقے کے تمام کلیوں میں تعلیمی اداروں کی ترقی،سڑکیں اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کو اولیت دی جائے بصورت دیگر علاقہ مکین سیندک کے افسران شاہی کیخلاف احتجاج کا راستہ اپنانے سے گریز نہیں کرینگے۔


