پاکستان سمیت ماحولیاتی تبدیلی کے شکار ملکوں کو 100 ارب ڈالر دینے کا وعدہ

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کے امیرترین ممالک نے ماحولیاتی تبدیلی کے شکار ملکوں کو 100 ارب ڈالر دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ یہ وعدہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس کے دوران کیا گیا۔پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہے اور گذشتہ برس کی سیلاب میں 30 ارب ڈالر کے نقصانات اٹھا چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی پیرس کانفرنس میں شریک ہوئے۔فرانسیسی صدر ایمانیوئل میکرون نے کانفرنس کے اختتامی حصے میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امیر ممالک 100 ارب ڈالر دینے کو تیار ہو گئے ہیں جب کہ بائیو ڈائیورسٹی اور جنگلات کے تحفظ کے لیے ایک فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔پیرس کانفرنس میں 40 ممالک کے رہنماوں نے شرکت کی ، اس کا مقصد کم آمدن والے ملکوں کو مدد فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے اوپر قرضوں کا بوجھ کم کرپائیں، معاشی اصلاحات کریں اور اس کے نتیجے میں بچنے والی رقم کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے پر خرچ کر سکیں۔نومبر 2022 میں ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس COP 27 کے موقع پر لاس اینڈ ڈیمیج کے نام سے ایک فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا تاہم اس میں ترقی یافتہ ملکوں نے صرف 30 کروڑ ڈالر دینے کے وعدے کیے تھے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ملکوں کو 160 ارب ڈالر سے 340 ارب ڈالر سالانہ تک کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اس رقم سے وہ سمندر کو آگیبڑھنے سے روکنے کیلئے دیواروں کی تعمیر سمیت دیگر منصوبے شروع کرسکیں گے۔تاہم اگر ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار بڑھی تو یہ رقم 500 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔اس اعتبار سے 100 ارب ڈالر کے وعدے بھی ناکافی ہیں تاہم پچھلے برس کی اقوام متحدہ کانفرنس کی بہ نسبت یہ ایک اہم کامیابی ہے۔رواں ہفتے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے بھی کہا ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدہی کے شکار ملکوں کو رقوم کی فراہمی میں نرمی کا مظاہرہ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں