محروم، لاوارث آواران

تحریر: شکر اللہ عظیم
آواران کو یقینا ہر شعبہ میں پسماندہ رکھا گیا۔ آواران بلوچستان کے بڑے اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے جس کا رقبہ تقربیاً 29510 مربع کلو میٹر ہے لیکن وہاں سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں۔ نہ وہاں بجلی، نہ روڈ، نہ اسپتال نہ اسکول اور نہ ہی وہاں اچھا نظام تعلیم۔ آواران کو پوری طرح سے محروم رکھا گیا ہے۔ آواران آج بھی ان سہولیات کے لئے ترس رہا ہے جنہیں باقی اضلاع کئی سال سے حاصل کرچکے ہیں۔ اسپتال کا حالات ناقابل بیان ہے، چھوٹی چھوٹی بیماریوںکا علاج معالجہ ناممکن ہے۔ پورے آواران کا یہی ایک ہی اسپتال ہے۔ یہ اسپتال موجود ہونے کے باوجود بھی مریض جاکر چھوٹے کلینکس میں اپنا علاج کراتے ہیں۔ چھوٹی بیماری کے لیے بھی مریضوں کو کراچی جانا پڑھتا ہے، جب وہ کراچی جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ایک اور مسئلہ پیش آتا ہے وہ ہے روڈ۔ سڑک کا ڈھانچہ انتہائی ناقص اور بری طرح سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، آواران سے لسبیلہ جانے والا راستہ جو کہ ہنگامی حالت میں زیادہ استعمال ہوتا ہے وہ بھی برسوں سے مرمت نہیں ہوا۔ ایمرجنسی میں اگر کسی مریض کو کراچی لے جانا پڑے تو زیادہ تر مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں، بارشوں کا سلسلہ جب شروع ہوتا ہے تو آواران میں آنا جانا بالکل بند ہوتا ہے، کیونکہ راستے میں پل ہے ہی نہیں، اگر ہے تو قابل استعمال نہیں۔ ایک اور اہم ضروری سہولت جو کہ بجلی ہے وہ آج کل ہر چیز میں استعمال ہوتی ہے وہ بھی آواران میں پہنچ نہیں سکی، انٹرنیٹ جو کہ جدید دور کا نہایت ضروری جز ہے وہ بھی نہیں۔ انٹرنیٹ صدیوں کی ایجاد ہے لیکن آواران کے لوگ اسے اچھی طرح سے جانتے نہیں کہ دراصل یہ ہے کیا۔ آواران بغیر سہولیات سے آج بھی 18ویں صدی کی طرز زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس بے سروسامانی کے باوجود ایک اور غور و فکر نقطہ نظام تعلیم ہے، سہولیات موجود نہ ہونے کی وجہ سے آواران کا نظام تعلیم بھی درہم برہم ہوگیا ہے۔ نہ وہاں اچھے اسکول، کالج اور نہ ہی یونیورسٹی ہے جس سے آواران کے لوگ اپنی تعلیم کی پیاس بجھا سکیں۔ کچھ اسکول ہیں جہاں آٹھویں جماعت کے بعد طالبعلم پڑھ نہیں سکتے کیونکہ اساتذہ کی محدود تعداد یہ جماعتیں پڑھا نہیں سکتی۔ اسی طرح کہیں بچے پرائمری اسکول کے بعد اسکول سے نکل کر معاشرے کی کئی برائیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جو آواران کے مستقبل کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ناخواندگی کا شرح 25 سے 47 فیصد ہے۔ حکومت اور منتخب نمائندوں سے گزارش ہے کہ آواران کو سہولیات فراہم کرنے میں اپنی پوری کوشش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں