بلوچستان اسمبلی میں 2023-24ءکا 37 ارب 41 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد کا ضمنی بجٹ منظور

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان کا رواں مالی سال 2023-24ءکا 37 ارب 41 کروڑ 16لاکھ روپے سے زائد کا ضمنی بجٹ منظور کرلیا گیا ،ایوان نے غیر ترقیاتی مد میں 34 ارب 32 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد رقم پر مشتمل 30 جبکہ 3 ارب 8 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے تین ضمنی ترقیاتی اخراجات کے مطالبات زر کی فرداً فرداً منظوری دی،رواں مالی سال میں سب سے زیادہ ضمنی اخراجات محکمہ پی ڈی ایم اے نے 9 ارب 67 کروڑ روپے سے زائدکئے۔ اتوار کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے رواں مالی سال 2023-24ءکے ضمنی مطالبات زر کی تحاریک پیش کیں۔ صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے تحریک پیش کی کہ ایک رقم جو 5 ارب 24 کروڑ 60 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد نہ ہو وزیراعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کے لئے عطاءکی جائے جو مالی سال کے اختتام کے دوران بسلسلہ مد فوڈ (Voted) برداشت کرنے پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک رقم جو 42 کروڑ 30 لاکھ 98 ہزار 9 سو روپے سے زائد نہ ہو بسلسلہ مد سروسز اینڈ جنرل ایڈ منسٹریشن عطاءکی جائے۔ انہوں نے تحریک پیش کی کہ اسٹیمپس کی مد میں ایک رقم جو 16 لاکھ 16 ہزار ایک سو 80 روپے سے زائد ہو عطاءکی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایمپلائز ریٹائرمنٹ بینیفٹس کی مد میں 2 ارب 64 کروڑ 67 لاکھ 12 ہزار 5 سو گیارہ روپے عطاءکیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریشن آف جسٹس (Voted ) کی مد میں 28 کروڑ 97 لاکھ 78 ہزار ایک سو 22 روپے عطاءکیے جائیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے تحریک پیش کی کہ بلوچستان پولیس کی مد میں 37 کروڑ 73 لاکھ 53 ہزار 55 روپے عطاءکیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان لیویز کی مد میں 3 ارب 11 کروڑ 43 لاکھ 73 ہزار 8 سو 88 روپے، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مد میں 21 کروڑ 34 لاکھ 80 ہزار 5 سو 41 روپے، ورک اربن بی واسا کی مد میں 2ارب 65کروڑ 87لاکھ 60ہزار روپے،کالجز ہایئر ایجو کیشن اینڈ ٹیکنیکل ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ کے لئے 1ارب 96کروڑ 46لاکھ 64ہزار سات سو 23روپے عطاءکئے جائیں ۔ وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے تحریک پیش کی کہسپورٹس ، ریکریشن اینڈ یوتھ افیرز ڈیپارٹمنٹ کے لئے 43کروڑ 26لاکھ 6ہزار 9سو 87روپے ،پروانشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے ) کے لئے 9ارب 67کروڑ 23لاکھ 30ہزار ایک سو روپے ،محکمہ زراعت کے لئے ایک ارب 22کروڑ 13لاکھ 88ہزار 9سو 26روپے ،محکمہ فشریز کے لئے24کروڑ 84لاکھ 78ہزار 8سو 80روپے عطاءکئے جائیں ۔انہوں نے تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے لئے 59کروڑ 40لاکھ 74ہزار ایک سو 4روپے،محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے لئے16کروڑ 54لاکھ 71ہزار 4سو 61روپے ،محکمہ انڈسٹریز کے لئے 8کروڑ 63لاکھ 50ہزار دو سو 19روپے عطاءکئے جائیں ۔ صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے تحریک پیش کی کہ ایک رقم جو 58لاکھ 54ہزار 71روپے سے زائد نہ ہو وزیر اعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کے لئے عطاءکی جائے جو مالی کے اختتام 30جون 2023کے دوران بسلسلہ مد اسٹیشنری اینڈ پر نٹنگ برداشت کرنے پڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ لون اینڈ سبسڈیز کی مد میں 2ارب 56کروڑ 30لاکھ روپے عطاءکئے جائیں ۔انہوں تحریک پیش کی کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے لئے 53لاکھ 47ہزار 9سے 80روپے، لااینڈ پارلیمینٹری افیئرز کے لئے 3کروڑ 5لاکھ 45ہزار 6سو 42روپے عطاءکئے جائیں۔صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے تحریک پیش کی کہ ایک رقم جو 29کروڑ 87لاکھ 99ہزار 3سو 10روپے سے زائد نہ ہو وزیر اعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کے لئے عطاءکی جائے جو مالی کے اختتام 30جون 2023کے دوران بسلسلہ مد انر جی ڈیپارنمنٹ برداشت کرنے پڑیں گے ۔انہوں نے تحریک پیش کی کہ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے25کروڑ 36لاکھ 40ہزار 5سو 17روپے،صوبائی محتسب کے لئے 3کروڑ 22ہزار5سو60روپے عطاءکئے جائیں۔ صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے تحریک پیش کی کہ محکمہ داخلہ و قبائلی امور 10کروڑ 57ہزارروپے ،محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لئے ایک ارب 42کروڑ44لاکھ38ہزار 4سوروپے،محکمہ اطلاعات کے لئے20کروڑ97لاکھ96ہزارروپے،وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کے لئے3کروڑ74لاکھ 74ہزار روپے عطاءکئے جائیں ۔ صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے تحریک پیش کی کہ ایک رقم جو17لاکھ 26ہزار روپے سے زائد نہ ہو وزیر اعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کے لئے عطاءکی جائے جو مالی کے اختتام 30جون 2023کے دوران بسلسلہ مدگور نر سیکر ٹریٹ (Voted)برداشت کرنے پڑیں گے ۔انہوں تحریک پیش کی کہ محکمہ اقلیتی امور کے لئے 1کروڑ75 ہزار 5سو15روپے ،محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے لئے18کروڑ 56لاکھ روپے،محکمہ اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لئے1ارب 57کروڑ46لاکھ 45ہزار روپے عطاءکئے جائیں ۔انہوں نے تحریک پیش کی کہ 1ارب32کروڑ 78لاکھ 29 ہزار روپے وزیر اعلیٰ کو ان اخراجات کی کفالت کے لئے عطاءکئے جائےں جو مالی کے اختتام 30جون 2023کے دوران بسلسلہ مدملٹی ڈیپارٹمنٹ سکیمز برداشت کرنے پڑیں گے ۔ ایوان نے مالی سال 2023-24کے لئے تمام 33 ضمنی مطالبات زر کی منظوری دے دی۔ بعدازاں ڈپٹی اسپیکر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج شام 4بجے تک ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں