ظالمانہ سرداری نظام، جبری اغوا کیخلاف 3 جولائی کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام، 8 جولائی کو شٹر ڈاﺅن ہوگا، جھالاوان عوامی پینل

کوئٹہ (آن لائن) جھالاوان عوامی پینل کے رہنما ندیم الرحمٰن بلوچ نے وڈھ سمیت بلوچستان بھر میں ظالمانہ سرداری نظام اور علاقے سے لوگوں کو جبری طور پر اغواءکر نے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے 3جولائی کو بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال اور 8جولائی کو احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے 14جولائی کو صوبہ بھر میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا یہ بات انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں نصیر احمد مینگل،یوسف مینگل سمیت دیگر کے ہمراہ منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر وڈھ اور بلوچستان کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں گزشتہ روز ایک قوم پرست جماعت کی جانب سے ہمارے سیاسی رہنما شفیق الرحمٰن مینگل اور جماعت پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتے ہیں خدا بخش محمود زئی کو 7ماہ قبل اغواءکر کے قید کیا گیا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اس سمیت ہم تمام لوگوں کو جنہیں قیدی بنا کر رکھا ہے انہیں بازیاب کرایا جائے مزکورہ جماعت کی جانب سے علاقے کے حالات خراب کرکے 2023کے الیکشن میں اپنے مایوس کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر کے نفرت پھلائی جا رہی ہے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت اتحادی سرداری نظام کو دوام دینے اور مزکورہ جماعت کو سہارا دینے کیلئے جو بھی کریں انہیں کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ مزکورہ جماعت نے جو تشدد کا راستہ اپناتے ہوئے جھالاوان پینل کو سیاست اور میدان سے ختم کر نے کیلئے ناکام کوششیں کی ہیں اس میں کامیاب نہیں ہوں گئے ہم ہر فورم پر سیاسی جمہوری اور آئینی جدو جہد کے ذریعے راستہ اختیار کرتے ہوئے سیاست کو پروان چڑھائیں گئے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم وڈھ میں حالات کی خرابی لوگوں کے حقوق کے حصول لوگوں کی بازیابی اور ظالمانہ سرداری نظام کے خلاف وڈھ سے کوہلو بارکھان اور ڈیرہ بگٹی سمیت جہاں بھی ظالمانہ سرداری نظام ہے اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلائیں گئے 3جولائی کو شاہراہوں کو بلاک کریں گئے ٹرانسپورٹر اور عوام تعاون کریں 8جولائی کو بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی اور مظاہرے کیے جائیں گئے 14جولائی کو صوبہ بھر میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی جائے گی تاجر برادی ہمارے ساتھ تعاون کرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ظالمانہ سرداری نظام میں سسٹم کو یرغمال بنا رکھا ہے وڈھ کی صورت حال پر بننے والی کیمٹی کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن وزیر اعلیٰ اور حکومت مزکورہ جماعت کے سربراہ کا بغل بچہ بن کر ڈکٹیشن پر چل رہاہے اگر حالات کی سنگینی کا تدارک نہ کیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں