جامعہ تربت میں ڈراپ آﺅٹ کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے

تحریر: شہزاد بدل
حال ہی میں زیر تعلیم سو سے زائد نوجوانوں کو یکساں ڈراپ آﺅٹ کرنا باعث تشویش اور قابل مذمت ہے، جامعہ تربت کی جانب سے نوجوانوں کو تعلیم کے میدان سے دور کرنا معاشرے کےلئے ایک بڑا سانحہ اور اظہار افسوس کی بات ہے، اگر بات کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ڈراپ آﺅٹ کے رجحان کا ایک اہم سبب اساتذہ کی عدم دلچسپی اور طلباءکا علمی پس منظر بھی ہے، اس کے علاوہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کیلئے اسکولوں کی سہولت نہ ہونا ایک بنیادی وجہ بھی ہے، جو ڈراپ آﺅٹ کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے۔
یوں تو یہ مسئلہ بہت قدیم ہے لیکن موجودہ ناخوشگوار حالات و جدید دور کی بے رحمی کا شکار ہوکر لڑکے، لڑکیاں بڑی تعداد میں یونیورسٹی آف تربت سے ڈراپ آﺅٹ کرنا یہ ہماری ملت کا تازہ، ابھرتا ہوا شدید بحران اور بچوں کو ذہنی طور پر ٹارچر کا ایک اہم اور اعلیٰ عملی شکل ہے، اگر فی الفور اس سلسلے کی راہ مسدود نہ کی گئی تو یہ مستقبل میں ہماری نوجوان نسل اور ہمارے معاشرے کی بدحالی اور بربادی کی منزل پر منتج ہوگا۔ سب کو معلوم ہے کہ ملک و قوم کی ترقی کا انحصار تعلیم پر ہوتا ہے۔ ملک و قوم کی ترقی کی اساس اور راہیں بھی تعلیم کے ذریعے ہی متعین کی جاتی ہیں۔ تعلیم کی اہمیت و افادیت پر ہر چھوٹے اور بڑے کو احساس ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبے سے سارے ملک کا دارو مدار ہے۔ یہ سب جاننے کے باوجود بھی جامہ تربت کے عہدیداران اپنی ذمے داریاں ایمانداری اور ٹھیک سے نبھا نہیں رہے، کاش کہ جامعہ تربت کی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوتی کہ اب وہ ہر طلباءجامعہ سے اپنی تعلیم کو مکمل کرکے ہی نکلے اور درمیان میں کارواں سے بچھڑنے نہ پائے۔ خوشگوار ماحول، پر فضا جامعہ حوصلہ دینے والے اساتذہ، بنیادی سہولیات، تعلیمی معیار کے ساتھ بے خوف اور محبت بھرا ماحول بچوں کو تعلیم سے جوڑے رکھنے کی ضمانت ہے۔ معاشرے کو منظم اور بچوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں اساتذہ اور تعلیمی ادارے پہلے تو یہ کریں کہ اکڑ چھوڑ دیں، خود میں لچک اور ہمدردی پیدا کریں، مہربان ہوجائیں، نرم ہوجائیں۔
بچوں کے ساتھ تعاون کریں اور ان کے سرپرستوں، اساتذہ اور بالعموم معاشرے کا اعتماد حاصل کرنے پر توجہ دیں۔ ان کے تعاون کے بغیر معاشرہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ یہ سب جامعہ کی طاقت ہیں، اس کی پہچان کرنا، اسے فروغ دینا اور پھر اسے معاشرے کے مفاد میں تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہی عقل مندی اور درست حکمتِ عملی ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جامعہ تربت اور اساتذہ کو اس ضمن میں مورد الزام ٹھہرا کر جن طلبہ کو ڈراپ آﺅٹ کیا گیا ہے انہیں دوبارہ موقع دیکر تعلیم کے میدان میں شامل کیا جائے اور غیر انرولمنٹ میں اضافے اور ڈراپ آﺅٹ مسائل کے لئے ان افسران بالا کو بھی کٹہرے میں لاکھڑا کرنا چاہیے جو ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر ایسی پالسیاں مرتب کرتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے دور تک کوئی واسطہ تک نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں