عوام کو ٹھپہ مافیا کا راستہ روکنا ہوگا،نیشنل پارٹی بلوچ ساحل وسائل کے دفاع کی ضامن ہے، ڈاکٹر مالک بلوچ

تربت(مانیٹرنگ ڈیسک)نیشنل پارٹی کے مرزی صدر اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے تجابان لٹریری فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی کو جب بھی اقتدار ملا ہم یہاں تعلیم،صحت کے شعبوں کے ساتھ بارڈر ٹریڈ کے نظام کو بہتر بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ بلوچستان کے عوام نیشنل پارٹی کو مضبوط بنائیں اور ن نوجوان نیشنل پارٹی کی قوت بنیں تاکہ ہم موثر انداز میں بلوچ ساحل وسائل کا دفاع کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کو متحد ہوکر ٹھپہ مافیا کا راستہ روکنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ نوجْوان ملک کا مستقبل ہیں اور نوجْوانوں کیلئے تعلیم کے میدان میں مواقع بہت ہیں۔جب بھی عوام نے نیشنل پارٹی کو مینڈیٹ دیا تو یہاں نہ صرف امن ہوگا بلکہ ترقی کا عمل بھی آگے بڑھیگا اور تعلیم،صحت کے شعبوں میں ہم آگے بڑھیں گے۔انہوں نے تجابان کے نوجْوانوں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد دی جنہوں نے کلچرل اینڈ ایجوکیشنل فئسٹیول کا انعقاد کیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری بچی مریم ضیا اسی علاقے سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ عالمی اداروں میں احسن طریقے سےخدمات ادا کررہی ہیں اور اگر یہاں کے نوجْوان تعلیم پر توجہ دیں تو وہ مزید آگے بڑھ سکتے ہیں۔تقریب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور سابق ایم پی اے جان محمد بُلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجْوانوں نے اس مشکل وقت میں اہنی قومی زمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے بہترین پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔جو مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ سماجی تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور سْیاست میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں ان کو لٹریچر اور تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجْوانوں کو قومی ویلیوز کا ادراک ہے اور وہ ترقی کے عمل میں تعلیم کے میدان میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف اس علاقے میں بلکہ بلوچستان بھرمیں تعلیمی اداروں کے قیام کا کریڈٹ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کو جاتا ہے جب وہ وزیر تعلیم تھے۔لیکن جب وہ وزیراعلی بن گئے تو انہوں کوالٹی ایجوکیشن پر توجہ دی۔انہوں نے آخر میں کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سْیاسی آزادی ملنی چاہئے تاکہ وہ اپنے نمائندوں کو اپنی منشا کے مطابق منتخب کرسکیں۔بلوچستان کی سْیاست میں مداخلت بند ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں اب ٹھپہ مافیا دم تھوڑ چکی ہے اور باہر سے عوام پرنمائندہ مسلط کرنےکا عمل قصہ پارینہ بن چکا ہے اب عوام جس کو چاہتے ہیں وہ منتخب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جن اداروں کو عوام ٹیکس دیتے ہیں وہ ادارے عوامی رائے کا احترام کریں تاکہ صوبے میں سْیاسی استحکام آئے۔اس موقع پر سینیٹر کہدہ اکرام دشتی

اپنا تبصرہ بھیجیں