بلوچستان میں اکثر خواتین کے پاس شناختی کارڈ نہیں، خواتین کو سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنایا جائے، بشریٰ رند

کوئٹہ (این این آئی) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق بلو چستان چیپٹرکے زیر اہتمام ایک مشاورتی اجلاس بعنوان پسماندہ طبقے کی سیا سی شعور اور انتخابات میں شرکت کو بہتر بنانا پروگرام منعقد کیا گیا ۔ پروگرام میں پارلیمانی سیکر ٹری بشریٰ رند نے کہا ہے کہ خواتین سیا ستدانوں کو سیاسی منظر نامے میں جگہ نہیں دی جا تی انہیں صرف قانونی تقاضے پورے کر نے کی خاطر نشستیں دی جا تی ہیں ۔ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو بااختیار بنا نے کے لئے ایک وقف اسکول کا نظام ہونا چاہیے تاکہ وہ مرکزی دھارے کے معاشرے کا حصہ بن سکیں ۔ اس دوران سابقہ اسپیکر راحیلہ درانی نے اپنے خیالات کا ذکر کیا کہ اقلیتوں کے خلاف تشدد زیا دہ سیا سی طورپر محرک ہوتا ہے مذہبی اقلیتوں کے خلاف عوامی نفرت کی وجہ سے نہیں ہوتا خواتین سیا ست دانوں کو اپنی حیثیت میں با معنی تبدیلی لانے کے لئے پارٹی لائنوں سے بالاتر ہو کر متحدہو نے کی ضرورت ہے ۔ خواتین ایک کمزور گروہ ہیں وہ اقلیت ہیںجو اکثریت کا دکھاواکر رہے ہیں خواتین سیا ستدان کو پارٹی فیصلوں کا حصہ نہیں بنایا جا تا ایک مخصوص سماجی طبقے کی خواتین کو سیا سی جماعتوں میں شامل کیا جاتا ہے انہیں عام طورپر مردوں کی حمایت حاصل ہو تی ہے اور انکی صرف کا سمیٹک مو جود گی ہو تی ہے خواتین کا اپنے طورپر آگے آنا کم ہی ہو تا ہے انتخابی مہم میں زیا دہ اخراجات خواتین کے لئے آزادانہ طورپر الیکشن لڑ نا بھی مشکل بنا دیتے ہیں بہت سی صورتوں میں ، انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا گیا کیونکہ ان حلقوں میں خواتین کی کل ووٹرز کی تعداد 5فیصد سے کم تھی لیکن ان نشستوں پر دوبارہ انتخابات نہیں کرائے گئے ۔سیا سی جماعتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ خواتین سیا ستدانوں کو جتنے کے قابل نشستیں الاٹ کریں ۔ اکثر بلو چستان سے ان خواتین کو ٹکٹ فراہم کئے جا تے ہیں جو خاندانی اثر و رسوخ رکھتی ہیں سیا سی شعور نہ رکھنے کی وجہ سے انہیں سمجھنا اور سیا سی مبا حثوں میں حصہ لینا مشکل ہو جا تا ہے بلو چستان میں محنت کش طبقے کی خواتین سمیت کئی خواتین کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہیں برابر قرار دیتے ہیں خواتین کورجسٹریشن سے روکنے ہیں اور خواجہ سراﺅں کے لئے نادرا خاندان کے مرد افراد رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنا نے سے انکی سیا سی شرکت میں بہترین آسکتی ہے ووٹرز کو ووٹرلسٹ میں صحیح طریقے سے اندراج کر نے اور ووٹ ڈالنے کے پورے عمل سے آگاہ کیا جائے لائن ڈیپارٹنٹس کابجٹ صنفی لحاظ سے حساس ہو نا چاہیے بلو چستان کے مخدوش سیا سی حالات خواتین کی سیا سی شرکت کے لئے سازگار نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی سیا سی مہم کے لئے فنڈز بھی نہیں دے سکتیں فعال مقامی حکومتیں خواتین کی نچلی سطح پر سیا ست میں آنے اور اوپر کی طرف بڑھنے میں مدد کر سکتی ہیں طلبہ کی سیاست سیاسی منظر نامے کا ایک اہم حصہ ہے لیکن قبائل اصول خواتین طالبات کو اس میں حصہ لینے سے روکتے ہیں خواتین کے وژن کے حوالے سے سیا سی منشور کا تجزیہ کرنے کے لئے جامع سیا سی مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے کل آبادی کا 10فیصد ہو نے کے باوجود شناختی کارڈ کی کمی کی وجہ سے معذور افراد کی نمائندگی کم ہے نادرا کے ساتھ رجسٹریشن ایک طویل اور انتہائی مشکل عمل ہے کیونکہ ہر کیس کی جانچ ڈاکٹروں کا ایک بورڈ انکی معذوری کی تصدیق کر تا ہے اور پھر محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے معذور ی کا سرٹیفکیٹ جا ری کیا جاتا ہے معذور افراد کے لئے ملازمت کا کوٹہ 2فیصد سے بڑھا کر 5فیصد کیا جائے پی ڈبلیو ڈیز کو بلو چستان اسمبلی میں مخصوص نشستیں دی جائیں اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کے خلاف تشدد کی حالیہ لہر تشویشناک ہے ۔ اقلیتی خواتین جو جبر تبدیلی مذہب اور شادیوں کا نشانہ بنایا جا تا ہے اسلامی نصاب اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سکوک کرتا ہے اقلیتوں کی بڑی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے ملازمتوں کاکوٹہ چھوٹا ہے ۔ ٹرانسجینڈر کی شناختی کارڈ رجسٹریشن والدین کا گروہ کے سر پرستی کے یا افیڈویٹ کی بنیادی کی جانی چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں