کوئٹہ تفتان ریلوے ٹریک تباہ حالی کا شکار` مال گاڑیوں کا پٹری سے اترنا معمول بن گیا
کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان میں کوئٹہ تفتان ریلوے سیکشن پر ریلوے ٹریک کی حالت ابتر ہوگئی، دالبندین سے نوکنڈی تک شدید گرمی کے باعث ریلوے لائنیں ٹیڑھی ہونے لگیں، مال گاڑیوں کا پٹڑی سے اتر جانا معمول بن گیا، ہوائیں چلنے سے کئی کئی کلو میٹر ریلوے لائن ریت کے اندر دب کر گم ہوجاتی ہے، ریلوے کا عملہ جدید دور میں بھی بیلچوں سے ریت صاف کرتا نظر آتا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے تفتان تک 637 کلو میٹر ریلوے ٹریک کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے حالت ابتر ہوگئی ہے۔ ریلوے لائنیں ایک صدی پرانی ہونے کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کرتیں اور ان دنوں شدید گرمی کے باعث دالبندین سے نوکنڈی تک ریلوے لائنیں ٹیڑھی ہونے لگیں، جس کی وجہ سے کوئٹہ سے ایران جانے اور آنے والی مال گاڑیوں کا پٹڑی سے اتر جانا معمول بن گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ موسم گرما میں چلنے والی ہوائیں سے کئی کئی کلو میٹر ریلوے لائن ریت کے اندر دب کر گم ہو جاتی ہے۔ جسے بیلچوں کی مدد سے صاف کرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس حوالے سے ریلوے حکام نے بتایا کہ شدید گرمی کے باعث دن کو ٹیڑھی ہونے والی ریلوے لائنیں رات کو کسی حد تک ٹھیک ہوجاتی ہیں، اس لیے ہم مال گاڑیاں رات کو چلاتے ہیں، اس وقت بھی چار گاڑیاں کوئٹہ سے تفتان جارہی ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ تفتان ریلوے ٹریک کی مرمت کیلئے فزیبلٹی رپورٹ بن چکی ہے۔


