پنجگور میں زیرو پوائنٹ کی مارکیٹ اور دکانیں مقامی افراد کو الاٹ کی جائیں، تاجر برادری کا مطالبہ
پنجگور (این این آئی) پنجگور کے معروف کاروباری وسماجی شخصیت میر ہیبتان زہروزئی نے چیدگی زیرو پوائنٹ کی دکانوں پر پہلا حق وہاں کے مقامی افراد پھر سب تحصیل کلگ کے لوگوں کا قرار دے کر کہا کہ چیدگی سمیت پورے سب تحصیل میں روزگار کا ماسوائے بارڈر کے اورکوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے زیرو پوائنٹ کی مارکیٹ کی دکانیں مقامی افراد کو الاٹ کرکے انکو روزگار کے مواقعے فراہم کیئے جائیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی سوکھی روٹی کھلا سکیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز تاجران کے نام سے ایک بیاں جاری ہوا تھا جس میں چیدگی کی دکانوں میں بازار کے تاجران کمیٹی کو حصہ دینے کا مطالبہ کیاگیا تھا انہوں نے کہا کہ چتکان بازار میں دس ہزار دکانیں ہیں چیدگی مارکیٹ 35 دکانوں پر مشتمل ہے تو یہ کیسا ممکن ہوگا کہ چیدگی میں 10 ہزار لوگوں کو دکانیں الاٹ کی جائیں پنجگور کے تاجر کمیٹی چیدگی مارکیٹ کو متنازعہ اور اس پر قضیہ کھڑا کرنے کی بجائے وہاں کے مقامی افراد کے مفادات کا بھی سوچیں کیونکہ چیدگی سمیت پورے سب تحصیل میں روزگار کا جو واحد زریعہ دستیاب ہے وہ بارڈر ہے اگر بارڈر سے مقامی لوگوں کو بیدخل کیا جاتا ہے پھر وہ کہاں جاکر روزگار کریں میر ہیبتان زہروزہی نے کہا کہ چیدگی بارڈر کی دکانوں پر پہلا حق مقامی لوگوں کا ہے پھر سب تحصیل کلگ کے باشندگان کا ہے اور اگر کسی بھی جانب سے مقامی افراد کے جائز حقوق پر روڑے اٹکانے کی کوشش کی گئی تو اس پر بھرپور مزاحمت کرینگے انہوں نے کہا کہ اہلیاں چیدگی اور کلگ کے لوگوں کے توسط سے ضلعی انتظامیہ اور دیگر کنسرن اداروں سے پیشگی درخواست کرتے ہیں کہ وہ مقامی افراد کے حقوق اور ملکیت کا تحفظ کریں ایسا نہ ہو مقامی لوگ سڑکوں پر آکر احتجاج پر مجبور ہوجائیں انہوں نے کہا کہ چیدگی میں جو مال آتا ہے اور پھر وہاں سے شہر یا ہمسایہ ملک ایران جاتا ہے یہ کسی دوسرے شہر کے تاجروں کے ہاتھ تو فروخت نہیں ہوتا بازاز سے جو مال نکلتا ہے وہ بھی پنجگور کے مقامی دکانداروں کا ہوتا ہے اسی طرح ایران سے جو سامان چیدگی پہنچتا ہے وہ بھی پنجگور کے دکانداروں کے ہاتھوں جاکر فروخت ہوتے ہیں اگر یہ کام چیدگی کا مقامی دکاندار زیرو پوائنٹ پر بیٹھ کرے تو اس میں کیا نقصان ہے جب وہاں کے لوگ بازار کے دکاندار سے مال خریدنے میں کوئی تعصب نہیں برتتے تو چتکان بازار کے دکاندار کو بھی فراغدلی کا مظاہرہ کرکے ان سے مال خریدنا چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں ایک مخصوص لابی ہے جس کے ہاتھوں پورا کاروبار یرغمال ہے وہ نہیں چاہتا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ بھی باعزت طریقے سے روزگار کرسکیں اس لیے ایک نان ایشو کو چھیڑ کر یہاں بھی مقامی افراد کو بیدخل کرنے کی بھرپور سازشیں کی جارہی ہیں جسکی ہم نہ صرف مزمت کرتے ہیں ناانصافی کی صورت میں قانون کے دائرے میں رہ کر مزاحمت اور مخالفت بھی کرینگے۔


