توشہ خانہ کیس، بجلی کی آنکھ مچولی، موبائل ٹارچ کی روشنی میں سماعت
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران بار بار بجلی منقطع ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء اور جج کو موبائل ٹارچ کا استعمال کرنا پڑ گیا۔توشہ خانہ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں ہوئی۔دورانِ سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء شیر افضل مروت اور خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نجی بینک میں اکاؤنٹ چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے نام سے ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے بینک میں توشہ خانے کی رقم منتقل کی، کوئی نئی دستاویزات عدالت میں جمع نہیں کروا رہے، جو دستاویزات جمع کروائی ہیں وہ پہلے سے عدالت کے پاس موجود ہیں۔جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ جب عدالت میں پہلے سے جمع ہیں تو پھر دوبارہ یہ دستاویزات جمع کیوں کروا رہے ہیں؟الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے جواب دیا کہ گواہوں کے درخواست دینے میں کوئی قانونی پہلو غلط نہیں، گواہوں کی درخواست دینے کا مقصد عدالت کو مزید مطمئن کرنا ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانے کی رقم بینک اکاؤنٹ میں منتقلی کرنے کی تصدیق کی، الیکشن کمیشن کے سامنے توشہ خانے کی رقم کی منتقلی کا اعتراف کیا گیا۔وکیل خواجہ حارث نے اس موقع پر پرائیویٹ شکایت میں پراسیکیوٹر کے دلائل پر اعتراض اٹھا دیا۔الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے کہا کہ قانون کے مطابق پراسیکیوٹر کسی بھی عدالت میں اپنے دلائل دے سکتا ہے، کہیں نہیں لکھا کہ پراسیکیوٹر اپنے دلائل پرائیویٹ شکایت میں نہیں دے سکتا۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پولیس کیس نہیں جس میں پراسیکیوٹر اپنے دلائل دے، شکایت کنندہ نے کس بنیاد پر گواہان کو منتخب کیا ہے؟ معلوم نہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ شکایت الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کی گئی ہے، قانون کے مطابق پراسیکیوٹر کو دلائل دینے کا حق ہے، قانون کے مطابق پرائیویٹ شکایت کنندہ پراسیکیوٹر کی مدد کر سکتا ہے۔وکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ پرائیویٹ شکایت کنندہ کیسے کسی پبلک پراسیکیوٹر سے مدد لے سکتا ہے؟ کیا صوبائی حکومت نے پراسیکیوٹر الیکشن کمیشن کے ساتھ تعینات کیا ہے؟ اسلام آباد وفاق کا حصہ ہے، چیف کمشنر اسلام آباد پراسیکیوٹر تعینات کرتے ہیں، کیا توشہ خانہ کیس پرائیویٹ شکایت سے سرکاری شکایت بنا ہے؟ پبلک پراسیکیوٹر الیکشن کمیشن کی جانب سے دلائل دے رہا ہے، جس پر افسوس ہوا، الیکشن کمیشن کے وکلاء ان کیسز کا حوالہ دے رہے ہیں جن میں مدعی پولیس ہے، توشہ خانہ کیس ایک پرائیویٹ شکایت کا معاملہ ہے۔الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے جواب میں کہا کہ قانون کے مطابق پراسیکیوٹر کسی فریق کا حصہ نہیں بن سکتا، قانون کے مطابق الیکشن کمیشن خود پراسیکیوٹر کو مدعو کر سکتا ہے، پراسیکیوٹر کا مقصد سچائی کو سامنے لانا ہے، اکتوبر 2022ء میں کابینہ ڈویژن میں تعینات 4 افسران کو گواہوں کی لسٹ میں رکھا گیا، کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری ایڈمن ارشد محمود، ڈپٹی سیکریٹری کوآرڈینیشن فیصل تحسین گواہ ہیں، 5 گواہوں کے نام گواہان کی فہرست میں شامل کرنے کی اجازت دی جائے۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ پراسیکیوٹر کے معاملے پر بحث شروع ہو جائے گی، قانون میں ترمیم کے بعد پراسیکیوٹر صرف تب دلائل دے سکتا ہے جب مدعی پولیس ہو، قانون میں ترمیم ہی ایسی ہوئی کہ پراسیکیوٹر پولیس کی معاونت کرے گا۔


