بلوچستان کے لوگ دنیا کی ہر نعمت سے کیوں محروم ہیں؟ کیا بلوچستان کے لوگوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا؟

تحریر: شہزاد بدل
بلوچستان کے لوگ دنیا کی ہر نعمت سے کیوں محروم ہیں؟ کیا بلوچستان کے لوگوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا؟
کیا بلوچستان کی معدنیات صرف اعلیٰ شخصیت کیلئے ہیں؟
کیا غریب، معصوم لوگ یہاں کے باسی نہیں ہیں؟ اس لیے انہیں ضروریات زندگی فراہم نہیں کی جارہیں؟
کیا بلوچستان کو صحت، انفرا اسٹرکچر، تعلیم، مواصلات کے ذرائع سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں؟ خدارا بلوچستان کے لوگوں پر رحم فرمائیں، ان کی فریاد سنیں کیونکہ اس جدید ترقی یافتہ دور میں بلوچستان کے لوگوں کی عجیب صورتحال ہے۔ ہر طرف مایوسی چھائی ہوئی ہے کیونکہ بلوچستان اور اس کے عوام کو ہر طرف سے نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ناخواندگی، ناانصافی، خواتین پر ظلم، لوگوں پر تشدد اور انفرادی حقوق سے ناواقفیت جیسی برائیاں جو اس وقت بلوچستان کے عوام پر مسلط ہیں۔
پورے بلوچستان کی تاریخ کو اگر دیکھیں 70 سے 80 فیصد آبادی انتہائی غربت کی زندگی گزار رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان مظلوموں کی سرزمین ہے، اس کا کوئی والی وارث نہیں۔ قدرت نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے لیکن اس کے باسیوں کو کبھی امن اور خوشحالی نصیب نہیں ہوئی، اس کی ایک چھوٹی سی مثال سب کے سامنے ہے، سوئی قدرتی گیس ہے جس کے واحد محافظ کی بھاری قیمت ادا کی جاتی ہے۔ لیکن اسے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کیا جاتا۔
بلوچستان نے اپنے قیام کے بعد کوئی ترقی نہیں دیکھی۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2019ء کی ایک رپورٹ میں بلوچستان کو ایشیا کا غریب ترین خطہ قرار دیا گیا تھا۔ اس کی کیا وجہ ہے اور کیوں؟
ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے یہی کافی ہے کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کسی نے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ظالمانہ نظام کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کی حالت انتہائی خراب ہے، دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور آئے روز خواتین و مرد خودکشی کو آخری حل سمجھ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں۔
ماضی کی طرح موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسیاں بھی عوام کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہیں، نام نہاد منتخب نمائندے بھی عوام کے تحفظات کی نشاندہی اور ان کو دور کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ پچھلی تمام جمہوری حکومتوں نے بھی اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کا راستہ روکا لیکن کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا۔ امیر بلوچستان کی مائوں کی چھاتیاں بھوک سے سوکھ رہی ہیں، سفید پوش لوگ ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں، آخر بلوچستان کو غربت کی دلدل میں دھکیلنے کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔

اپنا تبصرہ بھیجیں