خضدار، گریشہ سے ملحق علاقے میں پرائمری اسکول بستی عبدالکریم خستہ حالی کا شکار
خضدار (آن لائن) گریشہ سہر دپ کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے میر فراز ساجدی، خلیل ساجدی، ندیم، سعید احمد، یاسر احمد، زاہد وسیر احمد ساجدی اور دیگر نے خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرائمری اسکول بستی عبدالکریم میں آج سے نصف صدی قبل قائم کیا گیا تھا اب یہ اسکول خستہ حالی کے سبب ناقابل استعمال ہے بلکہ کسی بھی وقت کسی بڑے سانحہ کی وجہ بن سکتا ہے، دروازے کھرکیاں گل سڑ گئی ہیں تعلیمی مواد جیسے کتاب تختی فرنیچر ٹاٹ وغیرہ کا تو نام نشان تک نہیں ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ اسکول کا ٹیچر بھی عرصہ دراز سے غیر حاضر ہے دور جدید میں جہاں تعلیم کے بغیر زندگی بسر کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے وہاں اسکول کی بندش اور سینکڑوں طلبا اور طالبات کا مستقبل دا پر لگاہوا ہے لیکن محکمہ تعلیم کے حکام کے کان تک جوں نہیں رینگتی انہوں نے کہا کہ اس حوالے ہم نے محکمہ تعلیم کے ذمہداران کو بار بار آگاہ کیا لیکن ہماری بات کو سنی ان سنی کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں الیکشن کے دوران بلند وبانگ دعوے تو کرتے ہیں ہیں لیکن عملاً کسی کو ہماری پرواہ تک نہیں۔ انہوں نے کہا اسکول میں زیر تعلیم ایک سو سے زائد بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں بنیادی سہوتوں کا فقدان اور ٹیچر کی غیر حاضری کی وجہ سے ہمارے بچوں کا متقبل دا پر لگا ہوا ہے انہوں کمشنر قلات ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر خضدار ضلعی منتظم تعلیم خضدار سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ انکے بچوں کے مستقبل کو بربادی سے بچائیں اسکول ٹیچر کو حاضر اور بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔


