بلوچستان میں انسداد بدعنوانی اور طرز حکمرانی کی بہتری کیلئے اہم منصوبے کا آغاز کردیا گیا

اسلام آباد (این این آئی) بلوچستان کے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اینڈ پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹس کے سینئر تفتیش کاروں اور پراسیکیوٹرز کی تفتیش اور استغاثہ کی مہارت کو بہتر بنانے کے لئے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ اسلام آباد میں اختتام پزیر ہوئی۔صوبے میں انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو مزید بہتر کرنے، احتسابی عمل کو شفاف اور موثر بنانے اور بلخصوص حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے اینٹی کرپشن بلوچستان نے بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاءانفورسمنٹ اور اکاو¿نٹبیلیٹی لیب کے تعاون سے ادارے کی استعداد بڑھانے کی جامع حکمت عملی تیار کی۔ ورکشاپ کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل اے سی ای بی سہیل انور ہاشمی نے تفتیش کاروں اور پراسیکیوٹرز کے لئے منعقدہ پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ جیسے اقدام کو سراہا۔تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر ڈپٹی ڈائریکٹر پروگرامز اکاﺅنٹیبلیٹی لیب، آصف فاروقی کا کہنا تھا، کہ اکاو¿نٹیبلیٹی لیب، اے سی ای بی کی اینٹی کرپشن کے لئے قانون سازی اور قوائد و ضوابط مرتب کرنے، وائٹ کالر کرائمز سے نمٹنے کے لئے تکنیکی معاونت کی فراہمی، مالی اور اثاثہ جاتی تفتیش کے طریقوں کو بہتر کرنے اور انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کی مختلف حکمت عملیوں کے ذریعے ادارے کی استعداد بڑھانے کے لئے تربیتی ورکشاپس کی ایک سریز شروع کر رہی ہے جس کا بنیادی مقصد اے سی ای بی کو بہترین عالمی معیار کا ادارہ بنانا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، قومی اور ذیلی سطح پر اے سی ای بی اور دیگر اینٹی کرپشن ایجنسیز کے مابین ہم آہنگی کے فروغ اور معلومات کے تبادلے کو مزید بہتر بنانے کے لئے ایک خصوصی مالیاتی تحقیقاتی یونٹ قائم کیا جائے گا۔ آئی این ایل نمائندہ، مسٹر ایمیٹ سیپ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف اداروں کے مابین اس طرح کے تعاون کا فروغ بلوچستان میں حکومتی اداروں کی جانب سے عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور انسداد بد عنوانی جیسے اقدامات کو مضبوط بنانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ورکشاپ کے لیڈ ٹرینر، اینٹی منی لانڈرنگ، وائٹ کالر کرائمز اور مالیاتی تحقیقات کے ماہر قیصر اشفاق کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تربیتی ورکشاپس انسداد بدعنوانی اور پراسیکیوشن اہلکاروں کی استعداد کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی اور مجموعی طور صوبے میں احستاب اور بہتر طرزحکمرانی کو فروغ ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں