بلوچستان ،جولائی میں 43 سے زائد افراد لاپتہ ،6 سے زائد افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ، بلوچ یکجہتی کمیٹی

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان میں جولائی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کو ئٹہ میں ایک پریس کانفرنسکی ۔پریس کانفرنس میں ڈاکٹر مارنگ بلوچ نے کہا کہ
ہر بارمیڈیا سمیت ریاست کے تمام اداروں کو اپنی التجاء اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی ناجائز خلاف ورزیوں کے حوالے سے آگاہ کرتے ہیں لیکن ان غیر انسانی حقوق کو بند کرنے اور بلوچستان کے لوگوں کو ریلیف دینے کے بجائے بلوچستان میں ہر گزرنے مہینے کے ساتھ ناانصافیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچستان کو اس وقت جاری جرائم پیشہ گروہ اور جبر کا شدید سامنا ہے اور ان غیر انسانی، غیر آئینی، غیر اخلاقی اور ہر طرح کی ناانصافیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہر دن چادر و چار دیواریوں کی پامالی، گمشدگی، ٹارگٹ کلنگ، تشدد، چیک پوسٹوں پر تذلیل، جرائم پیشہ افراد کے ذریعے اغواء برائے تاوان و دیگر جرائم سمیت ہر طرح کی جبر اور وحشت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت بلوچستان میں ایک غیر یقینی صورتحال جنم لے چکی ہے جس سے بلوچستان کا گھر گھر متاثر ہے۔ بلوچستان بھر میں احتجاج و مظاہرے جاری ہیں لیکن بلوچستان کے حوالے سے عدالت عالیہ سے لیکر میڈیا تک سب کو سانپ سونگھ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پریس کانفرس کا مقصد ماہ جولائی میں ریاستی جرائم اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹ آپ کے سامنے پیش کرنا ہے۔ڈاکٹر مارنگ بلوچ نے کہا کہ ماہِ جولائی کا آغاز مشکے میں عیسی ولد جنگی خان کو قتل کیا گیا، فائرنگ کے واقعے میں ایک بچہ بھی زخمی ہو گیا تھا۔ عیسی قتل ہونے سے پہلے چار مرتبہ لاپتہ ہوئے ہیں ۔
ڈاکٹر مارنگ بلوچ نے یہ بھی کہاکہ عید کے فوری بعد بلوچستان سے گمشدگیوں کا سلسلہ پنجاب یونیورسٹی سے شعبہ تاریخ میں فارغ التحصیل اور اپنی بیوہ والدہ کا سہارہ سالم بلوچ کو ایک 4 جولائی کی رات تربت آبسر سے ان کے گھر سے اٹھا کرلاپتہ کر دیا گیا۔ اسی رات ایک اور گھر سےاکرام نامی شخص کو بھی لاپتہ کیا گیا ، تین دن کے تشدد کے بعد اکرام بلوچ کو بازیاب کیا گیا لیکن سالم بلوچ ایک مہینہ گزرنے کے بعد بھی تاحال لاپتہ ہیں ۔ سالم بلوچ کی بازیابی کیلئے ایمنسٹی انٹرنیشل سے لیکر ہومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور خاندان و ساتھی طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی ریکارڈ کیے گئے لیکن ایک مہینہ گزرنے کے باوجود سالم بلوچ اب بھی منظر عام سے غائب ہیں اور ان کی زندگی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔
4 جولائی کو ضلع کیچ دشت بلنگور کے رہائشی گلاب ولد جمال بلوچ کو سرحدی علاقے سے لاپتہ کیا گیا ۔ خاندان اس کی باحفاظت رہائی کیلئے فکرمند ہے جبکہ اس کے حوالے سے کسی کو کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر مارنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ 4 جولائی کو کراچی میں خضدار کے رہائشی محمد رضوان ولد محمد رمضان نتھوانی کو لاپتہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جس کے حوالے سے خاندان لاعلم ہے جس سے ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ لاپتہ تمام افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوتی ہے جنہیں کسی بھی وقت جعلی مقابلے یا ان کی مسخ شدہ لاش پھینک دی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 5 جولائی کو خاندانی ذرائع سے معلوم ہوا کہ کراچی سے خضدار کے رہائشی دو افراد محمد ولد محمود اور عاصم ولد محمد اعظم کو 17 جون کو لاپتہ کر کےنامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے جن کے حوالے سے کسی خاندان کو لاعلم رکھا گیا ہے، خاندان نے ریاستی اداروں سے ان کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔
6 جولائی کو ایک اور خاندان کی اپنے پیارے کی گمشدگی کے حوالے سے خاموشی تھوڑتےہوئے میڈیا کو آگاہ کیا کہ 15 جون کو عبدالوحید ولد عبدالحمید کو کوئٹہ سے لاپتہ کر دیا گیا اور ان کے حوالے سے خاندان کو لاعلم رکھا جا رہا ہے۔ خاندان کو ان کی زندگی کا فکر لاحق ہے۔
10 جولائی کو تمپ دازن سے مقامی رہائشی فاروق ولد حمید بلوچ کو لاپتہ کر کےنامعلوم مقام پر منتقل کیا۔
10 جولائی کو منگچر سے لاپتہ افراد کے لواحقین لاپتہ نوید بلوچ، شاہان بلوچ، کفایت بلوچ اور قزافی نچاری کے لواحقین شامل تھے نے شال(کوئٹہ) ٹو کراچی مرکزی شاہراہ کو بند کرکے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ جنہوں نے بعدازاں مقامی انتظامیہ کی اس یقین دہانی پر اپنا دھرنا ختم کیا کہ ان کے لواحقین کو جلد از جلد غیر قانونی حراست سے بازیاب کیا جائے گا۔
11 جولائی کی رات تمپ سے ماسٹر برکت کے سترہ سالہ نوجوان بیٹے حکمت علی کو لاپتہ کیا گیا ۔
12 جولائی کو نوشکی سے تین روز قبل لاپتہ طاہر خان کی مسخ شدہ لاش برآمد کی گئی جنہیں بدترین تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا اسی طرح دالبندین سے بھی ایک مسخ شدہ لاش برآمد کی گئی، ان واقعات کی اب تک شفاف تحقیقائی نہیں کرائی گئی ہے۔
12 جولائی کو بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں متعدد افراد کو لاپتہ کیا گیا جبکہ کئی علاقوں میں بمباری اور فائرنگ بھی کی گئی جس سے لوگوں کے معاش کو شدید نقصان پہنچا لاپتہ افراد میں ڈیرہ روشن ہوتکانی ، طارق ولد سفر خان بگٹی، جمعہ ولد الہ الدین بگٹی، حصو بگٹی، مری بگٹی، خیرا بگٹی، ٹھارو بگٹی، احمد علی بگٹی، حسینو دادن اور پنھل بگٹی شامل ہیں۔
11 جولائی کی ہی رات ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے بلوچ راج کے ممبر و سیاسی کارکن عبدالستار بلوچ کو لاپتہ کیا گیا ۔ پانچ دن تک حراست میں لینے، تشدد کرنے اور دھمکانے کے بعد رہا کیا گیا۔ بلوچستان میں سیاسی جدوجہد ممنوع بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاسی کارکنان مظالم کے زیر عتاب ہیں۔
13 جولائی کو ضلع بارکھان سے ایک چرواہا اللہ بخش ایک ماہ گمشدگی کے بعد مسخ شدہ لاش کی صورت میں برآمد ہوا۔ اللہ بخش کی مسخ شدہ لاش پر بھی سرکار اور حکومت کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
14 جولائی کو کوئٹہ میں ڈھاڈر کے رہائشی ظہور احمد ولد جام خان اور آواران کے رہائشی طالبعلم آعظم ولد اللہ داد کو لاپتہ کیا گیا ،جس کی وجہ سے لواحقین ان کے حوالے سے بے حد فکر مند و پریشان ہیں جنہیں جیل میں بند کر دیا گیا ہے اور خاندان تک کو اس کے لوکیشن کا علم نہیں۔
آواران میں 14 جولائی کو رات گئے ستر سالہ بزرگ دینا، جن کے ایک بیٹے اور کزن پہلے ہی لاپتہ ہونے کے بعد مسخ شدہ لاش کی صورت میں واپس لوٹائے گئے سمیت داد بخش ولد علی محمد اور زباد ولد سخی بخش کو شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے لاپتہ کر دیا گیا ۔ ستر سالہ دینار کی گمشدگی اس پستاہت پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتی ہے جس کے شر اور تشدد سے بزرگ تک محفوظ نہیں ہیں۔
18 جولائی کی رات تمپ سے مزید دو افراد فاروق ولد مراد اور پیر بخش کو لاپتہ کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جن کے حوالے سے خاندان کو کوئی علم نہیں۔ ان جرائم پر سوال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
18 جولائی کو کیچ میں جاں بحقکیگد بلوچ کے دو بیٹوں صغیر بلوچ اور رحیم ولد عبدالصمد کو لاپتہ کر دیا گیا، اس سے پہلے بھی انہیں گمشدگی کا سامنا رہا ہے اور ان کی والدہ بھی اس دوران انتقال کر گئیں تھی۔
19 جولائی کو خاران کے رہائشی و استاد حافظ اورنگزیب کولاپتہ کیا گیا ، ایک ہفتے تک شدید تشدد کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا جس سے انہیں ذاتی طور پر شدید نقصان پہنچا اور ان کے لواحقین نے شدید ذہنی اذیت برداشت کی۔
19 جولائی کو تربت شہر کولواہ اسٹاپ سے دن دہاڑے دسویں جماعت کے طالب علم شاہد ولد چارشمبے کو لاپتہ کرنے کےبعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ کمسن شاہد کی گمشدگی بلوچستان میں بچوں کی گمشدگی کے واقعات کی واضح نشانی ہے
22 جولائی کو کراچی سے مند کے رہائشی نوجوان طفیل بلوچ اور مشکے کے رہائشی دینار ولد محمد اقبال کو لاپتہ کر دیا گیا جو کراچی سے بلوچ افراد کے لاپتہ ہونے کا تسلسل ہے جو شدت سے جاری و ساری ہے۔
23 جولائی کو تمپ سے ایک اور نوجوان راشد بلوچ کو لاپتہ کر کے معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جن کے حوالے سے اب تک کسی کو کوئی بھی علم نہیں ہے۔ جس سے خاندان شدید اذیت میں ہے۔
24 جولائی کو منظر عام پر آنے والے ایک اور کیس کے مطابق فقیر محمد ولد نصیر احمد کو ناصر آباد سے اپنے زمیاد گاڑی سے جاتے ہوئے لاپتہ کر دیا گیا ۔ جن کے حوالے سے تین ماہ گزرنے کے بعد کوئی معلومات نہیں۔ خاندان فکرمند اور ان کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
25 جولائی کی رات اسلام آباد سے پسنی و تربت کے رہائشی دو طالب علم جواد اقبال اور زید بلوچ کو لاپتہ کر دیا گیا جو تعلیم کے غرض سے اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے اور اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھے۔ اسلام آباد سے طالب علموں کی گمشدگی اس بات کی غماز ہے کہ بلوچستان ہی نہیں بلکہ بلوچ بلخصوص نوجوان پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہوں وہ محفوظ نہیں ہیں۔
26 جولائی کو آواران میں ڈیتھ اسکواڈز کے اہلکاروں نے محمد عظیم ولد محمد اعظم کو گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
27 جولائی کو ایک آپریشن کے دوران گوادر سے بھی ایک طالب علم جبار ولد حاجی اسلم کو لاپتہ کردیا گیا۔
گوادر میں وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی کے دوران جبار سمیت مجموعی طور پر 4 افرادلاپتہ ہو گئے جن میں فاروق، الطاف اور کمبر شامل ہیں ۔ جبار سمیت تمام طلباء کو رہا کیا جائے
مجموطی طور پر اس مہینے 43 سے زائد افراد کو لاپتہ کیا گیا جبکہ 6 سے زائد افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ چاغی میں جرگے کے ہاتھوں ایک خاتون کا قتل، وڈھ میں ڈیتھ اسکواڈز کا بھتہ خوری، قتل و غارت گری اور حالیہ دنوں وڈھ کے لوگوں پر قہر برسانا، خضدار میں طلباء پر پولیس فورس کا استعمال، ،کیچ آبسر میں لوگوں کی زندگیوں کو مشکلات میں ڈالنا اور ان دیگر تمام مظالم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ یہ وہ واقعات ہیں جنہیں رپورٹ کیا گیا ہے جبکہ انگنت ایسے کیسز ہیں جو رپورٹ نہیں ہوتے۔ بلوچستان میں خودکشی کے بڑھتے واقعات بھی پریشان کن ہیں البتہ باز واقعات میں ڈیتھ اسکواڈز کے اہلکار دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بلوچستان میں جاری غیر انسانی حقوق کی جانب لے آنا چاہتے ہیں اور حکومت و متعلہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر بلوچستان کے مسئلے کا پرامن حل نکالنا ہے تو بلوچستان میں جاری غیر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا بنیادی شرط ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں