الیکشن کمیشن نے اسد اللہ کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں دیا، صدر میر اسرار اللہ زہری ہی ہیں، بی این پی عوامی
خضدار (بیورو رپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی خضدار کے ضلعی ترجمان نے اپنے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کارکن ایسی افواہوں اور منفی پروپیگنڈوں پر کان نہ دھریں، الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی نوٹیفکیشن اسداللہ سدوزئی کے حق میں نہیں آیا، کیس ابھی تک پینڈنگ میں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بے وقوف بنانے کیلئے اسداللہ سدوزئی کی جانب سے ماہ فروری 2023ءمیں ایک فیک انٹرا پارٹی الیکشن ڈھکی چھپی کرکے 18/19 تاریخ کو جعلی دستخطوں کے ذریعے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفتر میں جمع کرائی گئی تھی، جس پر بی این پی عوامی کے مرکزی صدر میر اسرار اللہ خان زہری نے اسد اللہ سدوزئی کیخلاف الیکشن کمیشن میں فیک انٹرا پارٹی الیکشن کے متعلق کیس دائر کیا گیا اور انکو 420 کرنے پر الیکشن کمیشن کو بے وقوف بنانے کے متعلق نااہل قرار دینے کیلئے سخت موقف پیش کیا، ان کا فیصلہ آنا باقی ہے اور بہت جلد مخالفین کی مٹھائیاں ان کیلئے شرمندگی کا باعث بنیں گی۔ ترجمان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ اسد اللہ سدوزئی کوئٹہ میں 20/21 مارچ 2023ءکو ایک جعلی کونسل سیشن کا ڈرامہ رچا کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک دی۔ دوسری جانب ایک فیک انٹرا پارٹی الیکشن جعلی دستخطوں کے ذریعے جمع کرکے الیکشن کمیشن کو 420 کے تحت بے وقوف بنایا گیا جسکا ریکارڈ موجود ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بی این پی عوامی کا چوتھا قومی کونسل سیشن 6 مارچ کو جھالاوان کے سرسبز شاداب دھرتی خضدار میں منعقد ہوا جس میں بلامقابلہ میر اسرار اللہ خان زہری پارٹی کے مرکزی صدر اور سید اکبر شاہ مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ ترجمان نے کہا کہ پارٹی کارکنان نظریاتی جیالے ورکرز سپورٹرز ووٹرز حمایتی اکابرین ایسے منفی پروپیگنڈوں پر کان نہ دھریں بلکہ ان کو ایک جعلی فیک سفید شیٹ سجمھ کر بھول جائیں۔ ترجمان نے کہا کہ ان شاءاللہ بہت جلد اصل حقیقت سب کے سامنے آئے گی۔ ترجمان نے کہا کہ بی این پی عوامی کے مرکزی صدر میر اسرار اللہ خان زہری ہیں اور ان شاءاللہ ہمیشہ رہیں گے، فیک انٹرا پارٹی الیکشن کرنے والوں کو بہت جلد شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترجمان نے کہا کہ پارٹی جیالے کارکنان حوصلہ اور ہمت سے مخالفین کا مردانہ وار مقابلہ کرکے انہیں شکست فاش سے دوچار کریں، بی این پی عوامی پہلے بھی ہماری تھی اب بھی ہماری ہے۔


