ریاست کو بلیک میل کرنے کیلئے بی این پی مینگل ڈیتھ اسکواڈ کو کنٹرول کررہی ہے، جھالاوان عوامی پینل
اسلام آباد (انتخاب نیوز) سردار اختر مینگل کیخلاف جھالاوان عوامی پینل کی احتجاجی ریلی۔ بلوچستان کے علاقے وڈھ میں مینگل و دیگر چالیس سے زائد قبائل کے مابین جاری جنگ سردار اختر مینگل کے مظالم اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیم لشکر بلوچستان کی پشت پناہی کو بے نقاب کرنے پر جھالاوان عوامی پینل کے زیر اہتمام میر ندیم الرحمٰن بلوچ کی قیادت میں نیشنل پریس کلب تا سپر مارکیٹ اسلام آباد احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاءنے مین سپر مارکیٹ شاہراہ کو بلاک کردیا۔ شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے میر ندیم الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے آگ اور خون کا کھیل سیاسی سرپرستی میں کھیلا جارہا ہے، منصوبہ بندی کے تحت ریاست کو بلیک میل کرنے کیلئے بی این پی مینگل ڈیتھ اسکواڈ کو براہ راست کنٹرول کررہی ہے۔ آج ایک عشرے سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی وہ بلوچستان میں مسلح جتھوں کے ذریعے محب وطن بلوچ قبائل پر شب خون مارنے کی تیاریاں کررہا ہے، ہمیں اور ہماری جماعت کو مظالم کیخلاف آواز بلند کرنے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگانے کی پاداش میں تختہ مشق بنایا جارہا ہے لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جھوٹے الزامات اور منفی پروپیگنڈوں کے ذریعے حق کی آواز کو نہیں دبایا جاسکتا۔ دو ماہ سے وڈھ شہر و گردونواح کے علاقوں کا محاصرہ کیا گیا ہے، سرکاری عمارتوں کو مورچوں میں تبدیل کردیا گیا ہے حالیہ لشکر کشی سے دو دن قبل ہی انتظامیہ کو اطلاع کردی تھی لیکن انتظامیہ و صوبائی حکومت نے تاحال مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بلوچستان میں عملاً بی این پی مینگل کی حکومت ہے جس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر وڈھ میں لشکر بلوچستان کے مسلح جتھے ایف سی و لیویز چیک پوسٹوں کو روندتے ہوئے بھاری بھر کم ہتھیاروں سے لیس ہوکر پیش قدمی کرتے رہے، آبادیوں پر راکٹ حملے و مارٹر گولے برسائے گئے، غریب اور مظلوم بلوچ عوام علاقے سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے لیکن انتظامیہ آج بھی تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس اور شرم کی بات ہے وفاقی حکومت چند ووٹوں کے خاطر پاکستانیت کو داﺅ پر لگانے سے گریز نہیں کررہی، سیاسی مفادات کے خاطر پاکستانیت کو نہ بیچا جائے۔ اختر مینگل کی بلیک میلنگ اتنی کارگر ثابت ہورہی ہے کہ ملکی سالمیت و بقاءکو داﺅ پر لگایا جارہا ہے جو ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے مذکورہ فاشسٹ پارٹی بلوچ کارڈ پر اسلام آباد سے اربوں روپے بٹور چکی ہے، ترقی و خوشحالی تو نہ دے سکے البتہ بلوچستان کو بارود کا ڈھیر ضرور بنا چکے۔ آج بھی منافقانہ روش سے باز نہیں آئے، وڈھ میں آج بھی کوئی معیاری تعلیمی ادارہ موجود نہیں، صحت اور پینے کے صاف پانی سے لوگ محروم ہیں، وڈھ شہر سمیت بلوچستان کھنڈر بن چکا ہے، حقوق کا رونا رونے والوں نے خود ہی بلوچستان و بلوچ عوام کو تمام تر بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہے ۔ بھتہ گیری اور اغواءبرائے تاوان عروج پر ہے، بے امنی اور لاقانونیت کا بازار گرم ہے، تسلسل کے ساتھ بلوچ کارڈ کے ذریعے بلوچ کا استحصال کیا جارہا ہے، یہاں جو لوگ بلوچستان کا وارث بن کر راگ الاپتے ہیں وہی بلوچستان کے اصل ناسور ہیں۔ اسلام آباد میں کوئی ایک بھی سمجھدار آدمی نہیں جو ان تمام تر معاملات کا نوٹس لے۔ بلوچستان کے ساتھ مظالم کا سلسہ بند ہونا چاہیے۔ مزید ہم کشت و خون کے متحمل نہیں ہوسکتے۔


