پاکستان سے تخریب کاری اور انتہا پسندی کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کریں گے ،رانا ثنا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے نیکٹا کی اعلی قیادت اور افسران سے مخاطب ہوتے ہوئے تخریب کاری کے دوبارہ سر اٹھانے اور خاص طور پر تخریب کاری کے حالیہ واقعات کے تناظر میں فوری طور پر جامع اور موثر پالیسی ترتیب دی جائے ۔وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان کی زیر صدارت نیکٹا کا چوتھا بورڈ آف گورنرز اجلاس پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۔ انہوں نے کہا کہ نیکٹا کو کوآرڈینیشن کا بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر جامع پالیسیوں اور حکمت عملی کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تخریب کاری کے خلاف جنگ میں مدد کرنا ہوگی۔ وفاقی وزیر نے نیکٹا پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نیکٹا انسداد تخریب کاری کے صف اول ادارے کے طور پر تخریب کاری کے خلاف موثر اقدامات پر مبنی پالیسی، حکمت عملی اور لائحہ عمل بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گا۔ تمام صوبے اور دوسرے متعلقہ ادارے اس حکمت عملی پر عملدرآمد کریں گے۔ اور پاکستان سے تخریب کاری اور انتہا پسندی کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ بات باعث اطمینان ہے کہ اب نیکٹا مکمل طور پر ایک فعال ادارہ بن چکا ہے، جس سے ہماری انسداد تخریب کاری میں سنجیدگی نمایاں ہے”۔ نیکٹا اصلاحات مکمل کر لی گئی ہیں۔ اب یہ اپنا کوآرڈینیشن کا قانونی کردار بطریق احسن سرانجام دے رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ نیکٹا ایکٹ 2013 کے تحت یہ ایک پالیسی ساز ادارہ ہے جس کا کام دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی کانٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹس کے لئے پالیسی سازی کرنا ہے۔ قانون کے مطابق اس کا کوئی آپریشنل کردار نہیں ہے۔ اس وجہ سے نیکٹا کوئی فیلڈ آپریشن نہیں کرتا۔ اجلاس کے افتتاحی کلمات میں نیشنل کوآرڈینیٹر، نیکٹا جناب محمد طاہر رائے، ہلال شجاعت، ستارہ امتیاز، نے وفاقی وزیر داخلہ، چیئرمین بورڈ آف گورنرز اور تمام بورڈ ممبران کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ پہلے چیئرمین بورڈ آف گورنرز ہیں جنہوں نے مسلسل دوسری بار نیکٹا بورڈ آف گورنرز اجلاس کی صدارت کی ہے، جس سے سال میں کم از کم ایک بار اجلاس کے انعقاد کی قانونی ضرورت پوری ہوئی۔ ممبران اجلاس کو نیشنل کوآڈینیٹر، محمد طاہر رائے کی طرف سے بتایا گیا کہ گزشتہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے فیصلہ کی بنیاد پر نیکٹا کی تنظیم سازی تقریبا مکمل کر لی گئی ہے اور اس ضمن میں پروفیشنل سٹاف بشمول اینالسٹس، ڈیٹا سائنٹسٹ، ٹیکنیکل آفیسرز، ماہرین لسانیات وغیرہ کی بھرتی کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کارکردگی کے اعلی معیار کے حصول کی غرض سے انٹیلیجنس تجزیہ کاری کے لئے، انسداد دہشتگردی کی استعداد کار میں اضافے اور نیکٹا کی کمیونیکیشن اسٹریٹجی کے اطلاق کے لئے کنسلٹنٹس کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔بورڈ کو بتایا گیا کہ پچھلے ایک سال کے دوران نیکٹا بہت متحرک رہا اور پیغام پاکستان فتوی، جو کہ پاکستان کے تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں جید علما کی متفقہ طور پر دستخط شدہ دستاویز ہے، کی بنیاد پر پاکستان کا قومی بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے جو بنیادی طور پر پاکستانی معاشرے کی اساس ہے۔ اس قومی بیانیہ کے ذریعے پاکستانی تمدن کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ، رواداری اور خالص پاکستانی روایات کے مطابق خوشیاں بانٹنے کی ترویج شامل ہے۔ پاکستان سے انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے نیکٹا ہر دل اول دستہ کے طور پر کام کرے گا۔ اور تمام متعلقہ اداروں کو رہنمائی فراہم کرے گا۔ آخر میں وفاقی وزیر برائے داخلہ نے نیکٹا کو اپنے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہماری کوششوں سے مادر وطن میں دائمی امن اور معاشی خوشحالی لوٹ آئے گی۔وفاقی وزیر برائے پاور اینڈ انرجی جناب خرم دستگیر، سینیٹر ھدایت اللہ اور سینیٹر رانا مقبول احمد کے علاوہ وفاقی سیکریٹریز داخلہ، دفاع، قانون و انصاف اور سیکریٹری خزانہ نے اجلاس میں شرکت کی۔ ان کے علاوہ ڈی جی انٹیلیجنس بیورو، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی (کانٹر ٹیررزم) آئی ایس آئی اور ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس، چاروں صوبوں کے ہوم سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرل پولیس صاحبان نے بھی بطور ممبران نیکٹا بورڈ آف گورنرز، اجلاس میں شرکت کی۔


