بلوچستان کو ایک نظریاتی لیڈر کی ضرورت ہے، سرداری نظام سے نوجوانوںکا مستقبل متاثر ہوسکتا ہے، بی این پی عوامی
خضدار (بیورو رپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری نوابزادہ میر ضیا اللہ خان زہری نے کہا کہ آجکل ملک کی سیاسی صورتحال بہت کنفیوژن کا شکار ہے، اس وقت قوم کی نظریں تمام پولیٹیکل سیاسی پارٹیوں کے اوپر لگی ہوئی ہیں کہ آیا اس صورتحال میں عام انتخابات ہونگے یا نہیں، گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ میں اسمبلیاں توڑیں گے اور ایک صاف شفاف انتخابات کی جانب جائیں گے، اب یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ الیکشن نئی حلقہ بندیوں میں کیسے ہوں گے اگر نئی حلقہ بندی کے تحت الیکشن کردیا گیا تو یہ تاخیری حربہ ہوگا صاف شفاف انتخابات کرانے سے، اس کے درست نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ لوگ اس شش و پنج میں ہیں کہ ایسا نہ ہو انتخابات تاخیر کا شکار ہوں اگر اس کی مدت میں تاخیر کی تو مدت کیا رکھیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ تاخیری مدت کم ازکم تین ماہ کردیں گے، موجودہ صورتحال میں نئی حلقہ بندی کی وجہ سے ایک عرصہ تک انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ انتخابات ملک کے مستقبل کیلئے بہت اہم ہے، جب نئے نمائندگان جیت کر اسمبلیوں میں آئیں گے وہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے بہترین کردار ادا کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار نوابزادہ میر ضیاءاللہ خان زہری نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں ہمیشہ سیاسی پارٹیاں ملک کی ترقی کے علاوہ اپنے گرانے کی چکر میں لگی ہوئی ہے، 75 سال سے ایک دوسرے کی کھینچا تانی میں ایک دوسرے کو گھسیٹتے رہتے ہیں، بلوچستان کی ترقی کیلئے نئے چہروں کو لانا ضروری ہے۔ صوبے میں راتوں رات پارٹیاں بنتی ہیں جبکہ چہرے وہی ہوتے ہیں، اسطرح صوبہ کیسے ترقی کرے گا، جولوگ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں حکمرانی کررہے ہیں، انہی پارٹیوں کے آنے جانے سے بلوچستان کی تقدیر نہیں بدلے گی، ہر الیکشن کے دوران بلوچستان میں ایک پارٹی بن جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بلوچستان ترقی کے بجائے بہت پیچھے چلا گیا ہے، اب بلوچستان کو ایک نظریاتی لیڈر کی ضرورت ہے جسکی سوچ وفکر بلوچستان کی ترقی ہو، ایسے لیڈر قوم کی تقدیر بدل دیں گے۔ نوابزادہ میر ضیا اللہ خان زہری نے کہا کہ سرداری نظام بہت پرانا ہے، کہیں نہ کہیں اس نظام کے تحت ہمارے نوجوان نسل کا مستقبل متاثر ہوسکتا ہے، دوسری جانب سلیکٹڈ عوامی نمائندگان کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے، ان کو اپنا مستقبل نظر نہیں آرہا، وہ ڈگریاں لیکر نوکریوں کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں، آخرکار مایوس ہوکر غلط راہ کی طرف چلے جاتے ہیں بلوچستان کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ان کے مستقبل کا حل روزگار ہے، ان کو روزگار نہیں دیا جارہا، روزگار کی تلاش میں ساری زندگی عوامی نمائندگان کے گھروں کی زیارت کرتے رہتے ہیں۔ حکمرانوں کو بلوچستان کے نوجوانوں کے مسقبل کی فکر نہیں، ان کو روزگار دیکر ملک کی ترقی اور صوبے کی خوشحالی کیلئے ایک نظریاتی سوچ رکھنے والے عوامی نمائندگان کو آگے لائیں جن کی سوچ بلوچستان کی ترقی ہو۔ بی این پی عوامی بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے کوشاں ہے اگر بلوچستان کی تمام قوم دوست، وطن دوست سیاسی حقیقی جماعتیں متحد ہوں تو صوبے کو ترقی سے کوئی روک نہیں پائے گا۔


