خضدار انتظامیہ مساجد و مدارس میں بیرونی مداخلت روکے، جے یو آئی

خضدار (بیورو رپورٹ) جمعیت علماءاسلام کے مرکزی سرپرست ضلعی امیر سابق ایم این اے مولانا قمرالدین ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عنایت اللہ رودینی اور ضلعی نائب امیر مولانا عبدالقادر شاہوانی نے کہا ہے کہ ایک سازش کے تحت ضلع خضدار کے مساجد اور مدارس میں مداخلت کی جا رہی ہے غیر متنازعہ مساجد میں تنازعات پیدا کرکے اہل اسلام کو ایک دوسرے کے ساتھ دست گریبان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایسے اقدامات کی وجہ سے نہ صرف امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گا بلکہ حالات بھی خراب ہو سکتے ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے خضدار پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر مولانا خلیل احمد شاہوانی، میرالٰہی بخش نتھوانی، مولانا بشیر احمد عثمانی، غلام بادشاہ عمرانی سمیت جمعیت علماءاسلام اور جمعیت طلباءاسلام کے سیکڑوں کارکنان بھی موجود تھے۔ مولانا قمر الدین و دیگر کا کہنا تھا کہ مدارس و مساجد اسلام کے قلعے ہیں اور انہی کی بدولت پاکستان قائم و دائم ہے، خضدار میں مساجد اور مدارس کیخلاف جو سازشیں ہورہی ہیں، ان اداروں میں جو بیرونی مداخلتیں ہورہی ہیں اس پوری صورتحال سے ہم نے ضلعی انتظام کو آگاہ کر دیا اور اپنے خدشات بھی ان کے سامنے رکھ دیا مگر افسوس ضلعی انتظامیہ مساجد و مدارس میں بیرونی مداخلت کو روکنے کے بجائے تماشاہی بنی بیٹھی ہے، اس لئے ہم خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ جمعیت علماءاسلام مدارس و مساجد اور علماءکرام کی محافظ جماعت ہے ہم اپنی اداروں کی خوب حفاظت کرنا جانتے ہیں ایسے عناصر کو مساجد و مدارس میں مداخلت کرنے کے لئے اپنے ایجنٹوں کو میدان میں اتارے ہیں وہ اپنی ان سازشوں و حرکتوں سے باز آ جائیں مدارس و مساجد میں مداخلت بند کر دے ہم ان مساجد و مدارس کی طرف اٹھنے والی ہر ہاتھ سے نمٹنے کے لئے تیار ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے توتک پھر اورناچ اور اب خضدار میں مداخلت کے واقعات رونما ہورہے ہیں جو کہ علاقے کے لئے مذہبی جماعتوں کے لئے اور اہل اسلام کے لئے نیک شگون نہیں اس سے قبل کہ جمعیت علماءاسلام اس معاملے پر سخت ردعمل کا مظاہرہ کرے ہم ضلعی انتظامیہ خضدار سے اپیل کرتے ہیں کہ غیر متنازعہ مساجد و مدارس میں تنازعہ پیدا کرکے مداخلت کی جواز پیدا کرنے والے عناصر کو خود روکیں ان کے خلاف کارروائی کرکے مساجد اور مدارس کو محفوظ بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں