بلوچستان میں 41 فیصد خواتین اور 31 فیصد مرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں، پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ کانفرنس

کوئٹہ (این این آئی) پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ کانفرنس کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل مرض ہے جو وباءکے طرح دن بدن پھلتا جا رہا ہے، بلو چستان میں 41فیصد خواتین اور 31فیصد مرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں لیکن بلو چستان میں بلڈ پریشر جیسے موذی مرض پر قابو پا نے کے لئے سہو لیات نہ ہو نے کے برابر ہے ۔ یہ بات ہائپر ٹینشن لیگ کانفرنس کے کنو نیئر پروفیسر جلال الدین، پروفیسر عابد حمید، پروفیسر محمد اسحاق، پروفیسر شہباز قریشی، پروفیسر ہارون بابر، پروفیسر بلال، پروفیسر کاشف ہاشمی، پروفیسر نوروز لاشاری، پروفیسر خالدہ نے جمعہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 30سال سے زائد کے 50فیصد لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں اس عوامل کے پیش نظر پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ 1991میں قائم ہوئی جس کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کر نا ہے تاکہ وہ اپنا بلڈ پریشر چیک کریں اور اسکا مناسب علاج و کنٹرول کروائیں۔ انہوں نے کہاکہ بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل مرض ہے جو فالج ، دل کے دورے، گردوں کے فیل ہو نے اور بینائی کے ضائع ہو نے کا سبب بن سکتا ہے ،ساری عمر ادویات کھا نے سے بہتر ہے انسان اپنی خورک اور روزانہ کی بنیاد پر ورزش پر توجہ دے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 3سے 4سالوں کے دوران بلڈ پریشر جیسے موذی مرض کی شرح میں اضافہ ہو ا ہے جوباعث تشویشناک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان میں بلڈ پریشر کی شرح دیگر صوبوں سے کافی زیا دہ جو ہمارے لئے ایک چیلنج ہے ، انسان اپنی روز مرہ میں استعال ہو نے والی مشنری کو وقت دینے کے لئے تیار ہے لیکن اپنی صحت کو وقت دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انسان سادہ زند گی گزارنے سے بلڈ پریشر جیسے مرض پر قابو پا سکتا ہے ۔ بلو چستان میں بلڈ پریشر جیسے موذی مر ض کی شرح دیگر صوبوں کی بانسبت کا فی زیادہ اور اسکے علاج و معالجے کے لئے سہولیات بہت کم ہیں، بلڈ پریشر جیسے موذی مر ض پر قابو پا نے کے لئے مٹھی ، کٹھی اور چکنی چیزوں سے گریز کیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں