زنگ آلود نظام حکومت کے ساتھ امام کو بھی بدلنا چاہتے ہیں، سراج الحق
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ زنگ آلود نظام حکومت کے ساتھ امام کو بھی بدلنا چاہتے ہیں ۔ جن لوگوں کو جیلوں میں ہونا چاہیے تھا وہ ہماری اسمبلیوں میں منتخب ہو کر قوم پر مسلط ہو جاتے ہیں ۔ اربوں روپے کرپشن کے احتساب مقدمات حکومت نے جاتے جاتے ٹھکانے لگا دئیے ۔ خواتین اور نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ، کسی ٹیکسی یا ٹرک ڈرائیور یا عام چوکیدار نہیں بلکہ بار بار حکومتیں کرنے والی جماعتوں نے ملک کو تباہ کیا ۔ جماعت اسلامی کو ضرور اختیار ملے گا عام خواتین بھی سینیٹ قومی وصوبائی اسمبلیوں کی ارکان ہوں گی ۔ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ تعلیمی اداروں صحت جائیداد اور دیگر حقوق کے حوالے سے الگ سہولیات کی بنیاد رکھی جائے گی ۔ لینڈ اور ڈرگ مافیا دولت کی بنیاد پر سیاست پر حاوی رہناچاہتی ہے مگر اب ایسا نہیں ہو گا ووٹ کی طاقت سے خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھیں گے ۔۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے شعبہ خواتین کے تحت خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جماعت اسلامی شعبہ خواتین کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی ، ثمینہ احسان ، جماعت اسلامی کے رہنماؤں ڈاکٹر طارق سلیم ، نصرت ناہید نے بھی خطاب کیا جبکہ جماعت اسلامی کی سابق پارلیمنٹرین ڈاکٹر کوثر فردوس ، عائشہ سید بھی موجود تھیں ۔ سراج الحق نے کہا کہ خواتین پاکستان کی نصف آبادی پر مشتمل ہیں اور یہ عظیم مائیں بہنیں بیٹیاں مینار نور ہیں ۔ پاکستان کا شاندار مستقبل خواتین اور نوجوانوں سے وابستہ ہے ہمیں ان کے لیے ساز گار حالات بنانے ہیں ۔ پاکستان کی خواتین با ہمت بھی ہیں اور با صلاحیت بھی ۔ آج کسی تعلیمی ادارے کے سربراہ ہسپتال کے انچارج پولیس کے سربراہ جج صدر وزیر اعظم جس سے پوچھیں کہتا ہے کہ حالات خراب ہیں اور اپنے شعبے کی خرابی کا رونا بھی روتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ زنگ آلود نظام حکومت کس کے مرہون منت ہے ۔ کیا مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ غربت کرپشن بے روزگاری ملک و قوم کا مقدر رہیں گے ۔ جنہوں نے بار بار حکومتیں کیں وہ تباہی کے ذمہ دار ہیں ۔ 35 سال فوجی آمر مسلط رہے ، 35 سال پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، مسلم لیگ ق ، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کی حکومتیں رہیں ۔ ساری جماعتیں فوجی گملے میں بڑھیں ، وہی انہیں فیڈر پلاتی رہیں اور ان کرپٹ سیاستدانوں کو قوم کے کندھوں پر بٹھا دیا ۔ یہ کیسا پاکستان ہے محافظ کے بغیر کوئی گھروں سے نہیں نکل سکتا ۔ مرد کے بغیر خواتین گھروں میں خوف محسوس کرتی ہیں ۔ سکول جانے والے بچے بچیوں کو انسان نما بھیڑیوں سے خطرہ ہے ۔ سب جس طرح شیطان سے پناہ مانگتے ہیں اسی طرح نظام حکومت سے پناہ مانگتے ہیں ۔ پر امن خوشحال پاکستان صرف دعاؤں سے نہیں بنے گا ۔ عدل و انصاف کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے پر امن طریقے سے نظام کی تبدیلی کے لیے خواتین جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ ہماری باری آئے گی عدل و انصاف عام ہو گا ، میرٹ کی حکمرانی ہو گی مہنگائی بے روزگاری دہشتگردی سے قوم کو نجات ملے گی ۔ سراج الحق نے کہا کہ ظالمو جابرو کو اسمبلی میں نہیں بلکہ جیلوں میں دیکھیں گے ۔ ظالم جاگیر دار نہیں چاہتا کہ صاف شفاف انتخاب ہو ۔ کرپٹ سرمایہ دار پیسوں کی بنیاد پر اسمبلیوں میں بھی پہنچ جاتا ہے عدالتوں کو بھی خرید لیتا ہے ۔ انتخابی عملہ اور پولنگ بوتھ بھی خرید لیے جاتے ہیں ۔ امید ابھی کچھ باقی ہے ، معاشرے کو بدلنا ہے ، نظام حکومت اور امام کو بھی بدلنا چاہتے ہیں ۔ صرف ووٹ اور سپورٹ ہی نہیں بلکہ سچائی اور حق پر ڈٹ جائیں ۔ فلسطین اور کشمیر کی طرح ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں پشتی بان بن جائیں ۔ نظام کو تبدیل کر دیں گے ۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کون ہیں جو غریب بچیوں کو گھریلو ملازمتوں پر مجبور کرتے ہیں ۔ اس غربت کی وجہ کیا ہے ہمارے وسائل لوٹے گئے ۔ پنجاب میں گیارہ ہزار بچیوں کی عصمت دری کی گئی اور اس کا اعتراف ایک سابق وفاقی وزیر نے کیا ہے ۔ جمہوریت کے چمپئین بننے والے یاد رکھیں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ میں شامل تھے ۔ تیرہ جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم کی جاتے جاتے حکومت پٹرول بم برسا گئی ۔ اب تو موٹر سائیکل میں تیل ڈلوانے کی سکت نہیں رہی عوام ان سے پانچ سال کا حساب کتاب لے ۔ سب نے ملکر حکومت کی اور بدتر حالات سے دوچار کیا ۔ ان کے بینک بیلنس ضرور بڑھے ۔ زرداری ہو نواز شریف ہو کوئی اور ہو عام خواتین کو اسمبلیوں میں جانے کے مواقع نہیں ہیں ۔ اسمبلیوں میں بااثر خاندان اور موروثی جماعتوں کی خواتین کو رسائی حاصل ہے ۔ اکیاون فیصد آبادی کی حقیقی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ پارلیمنٹ میں کاشتکار کسان کی نمائندگی کرپٹ ظالم جاگیردار کرتا ہے ۔ مزدور کی نمائندگی کوئی اور کرتا ہے ۔ سب ایکدوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ بلاول بھٹو کہتا ہے کہ تیس سال اقتدار ملنا چاہیے پہلا حساب کتاب تو دیں ۔ ہمیں سیاسی اور معاشی دہشت گردی کا سبب بننے والوں کا محاسبہ کرنا ہے ۔ وزیر اعظم اور دیگر کو جاتے جاتے سانحہ باجوڑ اور یونان کشتی کے جاں بحق افراد کا تذکرہ کرنے کی بھی توفیق نہیں ملی مزید کھیلنے نہیں دیں گے ووٹ کی طاقت سے محاسبہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ جاتے جاتے سینکڑوں احتساب مقدمات کو ٹھکانے لگا گئے ۔ یعنی اب کوئی پچاس کروڑ روپے کی کرپشن والے کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گا یہ حکومت اس کو جائز چوری قرار دے گئی کھربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز تقسیم کر دئیے ۔ قبائلی اضلاع ، کراچی ، گوادر والوں سے تو وعدوں کی پاسداری نہیں کی گئی سودی نظام مسلط رہا اور مسلط ہے ۔ گیس بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا رونے دھونے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔ ورنہ نسل در نسل یہی مسلط رہیں گے ۔ لینڈ اور ڈرگ مافیا دولت کی بنیاد پر سیاست پر حاوی رہناچاہتی ہے مگر اب ایسا نہیں ہو گا ووٹ کی طاقت سے خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھیں گے ۔ اس کے لیے انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ بچوں اور بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو پھانسی دے کر نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے ۔ کون بچوں اور بچیوں کو لاپتہ کرتا ہے اب تو خواتین تھانے میں محفوظ نہیں ہیں اور انصاف کے لیے وہاں جائیں تو انہیں پولیس اہلکار غلط نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ گھٹن اور جبر کے اس ماحول میں سانس لینا مشکل ہو گیا ہے ۔ ہمیں اختیار ملا تو بچیوں کو سکول نہ بھیجنے والے والد کو جیل جانا پڑے گا ۔ غریب خواتین کو با عزت روزگار کے لیے بلا سود قرضے دیں گے الگ سے ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے ہوں گے ۔ چھت فراہم کریں ۔ افغانستان کی حکومت کو بھی مشورہ دیا ہے کہ اسلامی حکومت میں بچیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھول دیں ۔


