پاکستان افغان عوام کے ہجرت کا وطن اور ان کا دوسرا گھر ہے، افغان وزیر خارجہ
کابل، کوئٹہ (آن لائن) افغان وزیرخارجہ ملاامیرخان متقی نے کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک سے اچھے برادرانہ تعلقات چاہتا ہے، ہماری سرزمین کسی پڑوسی ملک کےخلاف استعمال نہیں ہوگی، چالیس سال جنگ سے افغان قوم تھک چکی ہے، اب امارت اسلامی افغانستان اپنے ملک کی تعمیر، امن کی بحالی پر توجہ دے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابل کے دورے پر جمعیت علماءاسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سینئر نائب امیر مولانا عبدالقادر لونی کی قیادت میں جمعیت نظریاتی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستارشاہ چشتی، مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ، صوبائی محتسب مولانا نیاز محمد سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں پاکستان افغانستان کے مسائل اور صورتحال تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے جمعیت نظریاتی پاکستان کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے ہجرت کا وطن ہے جو افغان قوم کا دوسرا گھر ہے، جنہوں نے چالیس سال نہ صرف افغان عوام کو لاکھوں کے تعداد میں پنادی اور بے پناہ خدمت کی، جسے افغان قوم کبھی بھی بھلا نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امارت اسلامی افغانستان نے قطر معاہدہ کی مکمل پاسداری کی ہے، امیر المومنین شیخ ہیبت اللہ اخونذادہ نے افغانستان کے عوام پر دوسرے ممالک جانے وہر قسم کی منفی کارروائیوں پر پابندی لگائی ہے اورچیف جسٹس آف سپریم کورٹ افغانستان، وزیر دفاع، وزیر داخلہ و دیگر پر مشتمل وزراءتمام صوبوں کی دورے پر ہیں اور امیرالمومنین کی ہدایات پر عمل درآمدکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الحمداللہ دو سال کے مختصر وقت میں تمام ملک میں مثالی امن قائم کیا اور عالمی پابندیوں، مشکلات کے باوجودتمام ملک میں نظم کوفعال ملکی معیشت کو بہتر کیا ہے۔ امارت اسلامی روس کیخلاف جہاد یا امریکہ کی یلغار کےخلاف پاکستانی قوم کے جانی مالی نقصان پر افسردہ اور ان کے تعاون کی مشکور ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغان وپاکستانی عوام ایک جان دوقالب ہےافغان وپاکستانی حکومتیں مل بیٹھ کرتمام مسائل بردارانہ ماحول میں خوش اسلوبی سے حل کرے۔


