سردار اختر مینگل کی مخالفت سمجھ سے بالا تر ہے، لاپتہ افراد کا معاملہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں، سرفراز بگٹی

کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے ہمیں یقین ہے کہ وہ اسے احسن طریقے سے ادا کرینگے بلوچستان بھر سے انکی تقرری پر مثبت آواز آئی ہے،سردار اختر مینگل کی جانب سے مخالفت کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آرہی بلوچستان میں کوئی سیاسی جنگ نہیں بلکہ تخریب کاری اور تشدد کی امن اور جمہوری سیاست سے لڑائی ہے ریاست نے بارہا مواقع فراہم کئے ہیں مگر ہمیشہ سے ان مواقعوں کا غلط استعمال کیا گیا ہے ان خیالات کااظہار سینیٹر سرفراز بگٹی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ایک قابل اور اس عہدے کے لئے موزوں ترین شخص ہیں انھوں نے ہمیشہ مثبت طرز عمل کے ساتھ سیاست کی اور ہمیں امید ہے کہ جو ذمہ داری ان پر عائد کی گئی ہے وہ اسے بخوبی سرانجام دینگے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی بلوچستان سمیت ملکی معاملات پر مضبوط گرفت ہے اور انکی تعیناتی کے بعد سوائے چند لوگوں کے بلوچستان بھر سے مثبت آواز آئی ہے انھوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ سردار اختر جان مینگل نے ان کی تقرری کی کیوں مخالفت کی سردار اختر مینگل میرے لئے قابل احترام ہیں مگر ان کا یہ اقدام مجھے سمجھ نہیں آیاانھوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ لاپتہ افراد کا کوئی مسئلہ نہیں تاہم ہمارا اتنا ضرور کہنا ہے کہ اسے بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ کہنا درست نہیں ہے بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ تعلیم صحت سمیت دیگر عوامی سہولیات کی عدم فراہمی کا ہے جسے ہمیں ترجیحات دینی چاہیے تاکہ اہل بلوچستان کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جاسکے لاپتہ افراد کے معاملے پر بہت سے چیزیں ایسی ہیں جو قابل غور ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر تخریب کاری کے مقدمات ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو از خود لاپتہ ہوئے ہیں تاہم اس تمام صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کے خلاف جنگ پہلے شروع ہوئی یالاپتہ افراد کا مسئلہ پہلے شروع ہوا انھوں نے کہا کہ تشدد کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی کسی معصوم اور بے گناہ کو مارنا تخریب کاری اور اسکے خلاف آئین قانون کو حرکت میں آنا چاہیے بلوچستان کی صورتحال میں دیکھا جائے تو ریاست کے خلاف جنگ کرنے والوں کو بارہا ریاست نے مواقع فراہم کئے ہیں مگر ان مواقعوں کا درست استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اسے دوربارہ ریاست کے خلاف ہی استعمال کیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کسی صورت بھی کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت میں نہیں ہیں جہاں تک بات نو مئی کی ہے تو یہ واقعات ریاست کے خلاف گھناﺅنی سازش تھی اور ان سازشوں کے پیچھے جو بھی لوگ ہیں ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا انھوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کو کسی بھی جماعت میں ضم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک آزاد روشن خیال سیاسی جماعت ہے جس میں بہت سے ساتھیوں دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کی تاہم یہ کہنا بلوچستان عوامی پارٹی کو کسی جماعت میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا یہ سراسر غلط ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں