تیغانی گروہ کے قبضے سے بہو اور پوتی کو بازیاب کروا کر تحفظ دیا جائے، سجاول کے رہائشی کی فریاد

اوستہ محمد (آن لائن) ضلع سجاول سندھ گوٹھ جتوئی فارم کے رہائشی خیر محمد جت، سکندر علی جت اور دیگر نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو اگست ملزم عوض عرف ایوض قوم تیغانی نے میرے گھر پر پانچ افراد کے ساتھ آکر میری بہو مٹھی عرف فاطمہ زوجہ سکند علی اور پانچ سالہ پوتی وڈیری کو زبردستی اغوا کرکے لے گئے، پولیس نے ہماری فریاد نہیں سنی، ہم شیشن کورٹ سجاول گئے، عدالت نے 15 اگست کو پولیس کو حکم دیا کہ عورت اور اس کی بچی کو بازیاب کرائیں تو تیغانی کے چند لوگوں نے 12 اگست کو حملہ کیا اور فائرنگ کی، ان کی نیت تھی کہ وہ ہم پر کیس کریں لیکن اس فائرنگ میں میرا بیٹا محمد علی اور میری بیوی حاجانی زخمی ہوئی لیکن پھر بھی سجاول تھانہ کے ایس ایچ او نے کیس نہیں کیا، مزید ہمیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے کہ کیس سے ہاتھ اٹھائیں ورنہ ان کا بندہ قتل ہوا ہے میں آپ پر مقدمہ کرونگا، جس مقتول کا نام لے رہے ہیں وہ پانی میں ڈوب کے مرا ہے، اس کا بھی میڈیکل لے آئیں۔ خیر محمد جت نے کہا کہ تیغانی کندھ کوٹ سے بھاگ کر آئے ہیں یہاں کھوسہ قوم ظاہر کر رہے ہیں سارے اس علاقے کے مجرم ہیں جھنگل تیغانی کے اپنے قریبی رشتہ دار ہیں پولیس سجاول ان کے مدد میں ہے ہم آئی جی سندھ ۔ڈی آئی ایس پی سجاول سے اپیل کرتے ہیں ہماری مدد کی جائے اور اغوا شدہ بہو اور پوتی کو بازیاب کرایا جائے اور جو گھر پر تیغانیوں نے فائرنگ کی جس میں میری بیوی، بیٹا زخمی ہوا اس کا مقدمہ درج کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں