نگراں حکومت عافیہ کیس پر امریکی حکومت کو خط لکھے اور وزارتی کمیٹی بنائے، سینیٹر مشتاق احمد

اسلام آباد (صباح نیوز )ڈاکٹر عافیہ کی صحت، زندگی اور رہائی کیلئے دائر اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر آئینی پٹیشن کی سماعت کے بعد درخواست گزار ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے میں بیوروکریٹک رکاوٹیں تاخیر کا باعث بن رہی ہیں۔آج کی سماعت میں سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شریک ہوئے جبکہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کراچی سے آن لائن شرکت کی۔عدالت کے احاطے کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ عمران شفیق نے کہا کہ بدھ کو جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل بینچ نے سماعت کے دوران وزارت خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ کونسلر کی ڈاکٹر عافیہ سے جیل میں ملاقاتوں سے متعلق باقی دس ”خفیہ” دستاویزات عدالت کو دکھائی جائیں۔جمعہ کو سماعت کے دوران کیبنٹ ڈویژن کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری دستاویزات کی رازداری کے بارے میں ایک سادہ سا اصول ہے کہ جس محکمے نے یہ دستاویزات تیار کی ہیں وہ یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے کہ آیا ان کاغذات کو خفیہ رکھا جائے یا جاری کیا جائے۔ لہٰذ ا کیبنٹ ڈویژن کا وزارت خارجہ کی دستاویزات کی رازداری کے بارے میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کیمرہ سماعت کے دوران وزارت خارجہ کے حکام نے جو کاغذات عدالت کے سامنے پیش کیے اور معزز عدالت نے وزارت خارجہ سے کہا کہ وہ ان کاغذات کی رازداری کے معاملے پر دوبارہ غور کرے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 25 اگست تک ملتوی کردی۔جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں جیل حکام نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں اور انہیں ایک سوراخ(hole) میں ڈال دیا گیا ہے اور رپورٹس کے مطابق انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر عدالتوں اور قوم کو چکمہ دیا اور امریکی حکومت کو خط نہیں لکھا اور اس معاملے پر وزارتی کمیٹی بھی نہیں بنائی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وزارت خارجہ عافیہ صدیقی کیس میں سہولت کار بننے کے بجائے مزید رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ انہوں نے نگراں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عافیہ کیس پر امریکی حکومت کو خط لکھے اور وزارتی کمیٹی بھی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں موجود ہے اور پاکستانی حکومت کو اس چابی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں