تربت پولیس نے سیفی صاحب کے گھر پر فائرنگ اور خواتین کے ساتھ بلا جواز بد تمیزی کرکے چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے پریس ریلیز میں صوبائی نائب امیر مولانا خالد ولید سیفی کے گھر پر حملہ کو انتہائی شرمناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے غیر جمہوری اور جبری ہتھکنڈوں سے جمعیت علماء اسلام کو مرعوب کرنے کی سوچ رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں پریس ریلیز میں مزید کہاہے کہ مولانا خالد ولید سیفی کے گھر پر پولیس کی طرف سے فائرنگ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے کی کوشش سے معاشرے میں نفرت بڑھ گئی ہے کیونکہ تربت پولیس نے اس عمل سیانسانی اور قبائلی روایات کو پامال کیا ہے پولیس کی طرف سے ایسا اقدام قابل مذمت ہے جمعیت علماء اسلام نے اس حوالے سے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تربت پولیس کو اگر کوئی شکایت تھی تو ان کے پاس قانونی راستہ تھا، مگر انہوں نے سیفی صاحب کے گھر پر فائرنگ اور خواتین کے ساتھ بلاجواز بدتمیزی کرکے چادر وچار دیواری کے تقدس کو پامال کیا ہم حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں وہ اس واقعہ کا فوراً نوٹس لے اور اس کی وضاحت دے اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو قانون کے حوالے کریں ہم امید کرتے ہیں حکومت اور انتظامیہ اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیکر فورا مولوث ذمہ داران کو بینقاب کریں گیاور ایسے واقعات کی روک تھام کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں