مستونگ، شہید نواب غوث بخش میموریل اسپتال میں ادویات ناپید، مریضوں کو مشکلات

مستونگ(یو این اے)شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال مستونگ میں ادویات ناپید ،ہسپتال کے سالانہ بجٹ 40 کروڑ سے غریب دکھی انسانیت ادویات سے محروم،ہسپتال میں موجود لیب میں ٹائیفائیڈ ٹیسٹ کے لیے ٹیسٹ کٹ دستیاب نہیں تفصیلات کے مطابق ضلع مستونگ کے مشہور معروف شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال دو سال قبل غریبوں کو صحت کی سہولیات باہم فراہم کررہا تھا مگر سابقہ سی ای او کے کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد دن بہ دن تباہی کے دہانے پر جارہا ہے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ چند ماہ بعد چوتو وولن مل کی طرح کھنڈرات میں تبدیل ہونے کو ہے زرائع کے مطابق ہسپتال میں ادویات ناپید ہیں ،ہسپتال میں موجود لیب میں ٹائیفائیڈ ٹیسٹ کے لیے ٹیسٹ کٹ دستیاب نہیں زرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ تھلیسمیا میں مبتلا معصوم بچوں کے لیے فولک ایسڈ بھی موجود نہیں روزانہ سابقہ سہولیات کے پیش نظر استفادہ حاصل کرنے کے غرض سے آنے والے سینکڑوں مریض کسی امید سے ہسپتال کا رخ کرتے ہیں مگر ہستال پہنچتے ہی انکی امید اس وقت دم تھوڑ جاتی ہے جب ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات ہسپتال میں دستیاب نہ ہوں۔حوامی حلقے اسے ہسپتال میں بظاہر چیف ایگزیکٹو کی نالاحقی اور کرپشن کی وجہ قرار دیتے ہیں ہسپتال میں لیٹے مریض ناقص انتظامات کی دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں حوامی حلقوں کا کہنا ہیکہ چیف ایگزیکٹو کی ٹرانسفر منسوخی کا خمیازہ دکھی انسانیت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے حوامی حلقوں نے وزیر اعلی بلوچستان ،سیکرٹری صحت سے نا تجربہ کار سی ای او کو ہسپتال سے ہٹانے غریبوں کی ادویات کی فراہمی میں بےقاعدگیاں کرنے اور اس عظیم ہسپتال کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عناصر پر فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں