جولائی اور اگست کے مہینے میں صرف بلوچستان میں 50 سے زائدکان کن جاں بحق ہو ئے، سلطان خان

کوئٹہ(این این آئی) پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن نے دکی کے علاقے معراج کول ایریا میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر نے کے نتیجے میں تین کان کنوں کی المناک ہلاکت پر د±کھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس واقع کی شفاف تحقیقات اور ہلاک ہونے والے کانکنوں کے لواحقین کو مکمل معاوضے کی ادائیگی جبکہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی اقدامات، صحت و سلامتی کے حوالے سے قوانین پر عملدر آمد یقینی بنایا جائے۔پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالستار نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئلہ کانیں (کول مائنز) مزدوروں کیلئے موت کا کنواں بن چکی ہیں ان مائنزمیں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث ہر سال سینکڑوں کان کن جاں بحق ہوجاتے ہیںکوئلہ کانوںمیں آئے روز پیش آنے والے حادثات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کان کنوں کی صحت ، تحفظ وسلامتی کیلئے موجود حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، رواں سال جولائی اور اگست کے مہینے میں صرف بلوچستان میں 50 سے زائدکان کن جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں 118سے زائد مائن ورکرز مختلف حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہوچکے ہیںلہٰذاپاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اورآل پاکستان لیبر فیڈریشن وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مائننگ کے شعبے میں کان کنوں کی مزید ہلاکتوں کو روکنے کیلئے فوری طور پر عملی اقدامات کریں،محکمہ معدنیات ،محکمہ لیبر ،مائن انسپکٹراور مائن اونر اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے اگر مناسب حفاظتی اقداما ت، گیس کی نگرانی، وینٹی لیشن،ورکرز کی تربیت، معائنہ اور ایمرجنسی ریسکیو انتظامات کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں اور جدید آلات سے مائن کی انسپکشن یقینی بنائی جائے تو قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن ایک بار پھر وفاقی ، صوبائی حکومتوں اور محکمہ معدنیات سے مطالبہ کرتی ہے کہ رواں سال مائننگ کے شعبے میں ہونے والے حادثات کی شفاف، غیر جانب دار انہ ، آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں،تحقیقات کی رپورٹس منظر عام پر لائی جائیں اور غفلت یا حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کا تعین کر کے سخت ترین سزائیں دی جائیں جبکہ پاکستان کی حکومت مائننگ کے شعبے میں صحت وسلامتی کے حوالے سے آئی ایل او کنونشن(176-C) کی فوری طورپر توثیق کرے اور اس پرعملدآمد کو یقینی بنایا جائے ، آئی ایل او کنونشن(176-C) کی توثیق اور نفاذ سے کان کنوں کی جان اور صحت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو بھی تقویت ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں