رژن پیلک لائبریری آدم پیر وندر میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، عوامی حلقے

لسبیلہ (پ ر) رژن پیلک لائبریری آدم پیر وندر کو دو سال ہونے والے ہے جو ایک ہزار تک کتابیں ڈونیٹ ہو چکے ہیں۔ جو کچھ ادبی دوستوں نے ڈونیٹ کیے ہیں۔ مگر ضلعی سطح تک کوئی بھی مدد ابھی تک فراہم نہیں کی گئی ہے۔ رژن پیلک لائبریری کے قیام کے دنوں میں کچھ علمی دوستوں کے ساتھ سردار صالح بھوتانی کے پاس گئے تھے کہ لائبریری کی بنیادی سہولتیں فراہم کیا جائے مگر کچھ بھی درعمل نہیں آئی۔ رژن پیلک لائبریری کی قیام ایک بندشدہ دکان میں لائی گئی۔ لائبریری کی اپنی کمرے کے لئے وزیر بلدیات کو درخواست دی گیا تھا اور اے سی حب کو بھی مگر دونوں جانب کوئی بھی توجہ کا مرکز نہ بن سکا۔ آدم پیر لسبیلہ کا پہلا گاﺅں ہے جس کو پہلا پیلک لائبریری کا اعزاز حاصل ہے۔ مگر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی مدد ابھی تک نہیں پہنچیں گے۔ ڈام سے تعلق رکھنے والا ادبی دوست نے اپنی مدد آپ رڑن پیلک لائبریری کو شمسی توانائی اور کچھ بنیادی سہولتیں بھی فراہم کی۔ یہ غور وفکر کی بات ہے کہ 13 لاکھ کی بیت الخلا دی جاتی ہے مگر ایک لائبریری اور تعلیمی درگاہوں کے لیے کوئی بھی مدد فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔ کیا یہ ہماری نااہلی کی وجہ ہے ؟ ہمیں اس بات کی توقع نہیں کہ ہماری ان باتوں پر کسی بھی ادارے یا سیاسی قائدین کی طرف سے کوئی غورطلب ردعمل آئے مگر ہم اپنے فکری و نظریاتی دوستوں اور تعلیم و ترقی دوست لوگوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ انھیں اس بات سے ضرور فرق پڑیگا کہ ایسا علاقہ جو تعلیمی میدان میں آگے ہو، ایسا علاقہ جس کے اسٹوڈنس آپکو مختلف یونیورسٹیوں میں نظر آئیں وہ علاقہ کیونکر ان سہولیات سے محروم ہے۔ تعلیم ہماری بنیادی ضرورتوں میں سے ہے اگر ہمارے نمائندے ان بنیادی ضرورتوں کو نظرانداز کریں تو ہمیں ان سے کیا توقع ہو؟ سوال جواب طلب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں