بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق معذوروں کو 5 فیصد کوٹے پر سرکاری ملازمت دی جائے، ہمدرد معذوران

کوئٹہ (این این آئی) ہمدر معذوران بلو چستان کے صدر عطاءمحمد ملا خیل نے کہا ہے کہ بلو چستا ن میں معذور کوٹے پر عمل در آمد نہ ہو نے کی وجہ سے معذور آج بھی دھکے کھانے پر مجبور ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ،بلو چستان میں 15فیصدلوگ معذور ہیں ، نگراں وزیر اعظم ، نگراں وزیر اعلیٰ بلو چستان اور چیف جسٹس بلو چستان ہائی کورٹ سے مطالبہ ہے کہ معذور کوٹے پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جائے ۔ یہ بات انہوں نے منگل کو محمد اسلم کاکڑ، سمیع اللہ یوسفزئی اور ثناءاللہ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ تا ہے کہ آج تک معذوکوٹے پر عمل در آمد نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں معذور بے روزگاربیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان ہائی کورٹ نے حکم دیاتھاکہ معذو روں کے 5فیصد کوٹے پر فوری طور پر عملدرآمد کرکے انہیں میرٹ کے مطابق ملازمتیں فراہم کی جائےں لیکن پانچ ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ بلو چستا ن میں معذور کوٹے پر عمل در آمد نہ ہو نے کی وجہ سے مختلف محکموں میں آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیاہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے معذوروں کو فوری طور پر میرٹ کے مطابق ملازمتیں فراہم کی جائےں تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت ،ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کر دار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ جو معذور افرادملازمت کے قابل نہیں ہےں ا±ن کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے تا کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں