وزارت انسانی حقوق حکومت کے زیرِ اہتمام کوئٹہ میں صوبائی ٹاسک فورس کیساتھ ایک روزہ مشاورتی سیشن

کوئٹہ (آن لائن) وزارت انسانی حقوق حکومت پاکستان کے زیرِ اہتمام ایمپلیمنٹیشن آف ایکشن پلان ان ہومین رائٹس پر عملدرآمد کے لیے صوبائی ٹاسک فورس کے ساتھ ایک روزہ مشاورتی سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈائریکٹر ایکشن پلان ذولفقار علی، ریجنل ڈائریکٹر وزارت انسانی حقوق اسفندیار بادینی، ڈپٹی ڈائریکٹر احسن نواز، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ ہومین رائٹس حباگل اور محکمہ اطلاعات سمت دیگر تمام متعلقہ محکموں کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اس اجلاس میں وفاقی اور صوبائی ٹاسک فورس کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سیر حاصل بحث کی گئی۔اس موقع پرڈائریکٹر ریجنل ڈائریکٹر اسفندیار بادینی اور ڈائریکٹر پروجیکٹ ذوالفقار علی اجلاس کے شرکائ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بیچ پہلا رشتہ انسانیت کا ہے بہ حیثیت انسان بلاامتیاز ہم سب کے حقوق ایک جیسے ہیں، حقوق اور انصاف کے ضمن میں مذہب ،نسل، رنگ،زبان اور جنس کے بنیاد پر کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں۔ آئین پاکستان بھی تمام شہریوں کو حقوق کا یکساں ضمانت فراہم کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے شہریوں کو اپنے حقوق سے متعلق شعور اور علم نہیں ہے اور نہ ہی انھیں متعلقہ فورمز کا علم ہے کہ حقوق کی پامالیوں کی صورت میں کس ادارے سے اور کیسے رجوع کریں۔بہ انسان اور اداروں کے زمہ دار افراد کی حیثیت سے ہماری مشترکہ زمہ داری ہے کہ اس حوالے سے اپنے اپنے پلیٹ فارم سے عوام میں شعور و آگاہی پیدا کریں۔معاشرے کے کمزور اور نادار طبقات کا خیال رکھنا بھی ہماری زمہ داری بنتی ہے۔ اجلاس میں ایکشن ٹاسک فورس کا موثر نفاذ ،جیل اصلاحات ،کام کی جگہ پر تحفظ ، قوانین کا موثر نفاذ کی راہ میں حائل روکاوٹوں کا خاتمہ اور دیگر قوانین پر تفصیلی بحث کی گئی ، اجلاس میں بچوں کے اغواہ سے متعلق زینب الرٹ، قانونی مشاورت کے لیے 1099 اور اس جیسے دیگر ہیلپ لائن سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے جبکہ اس ضمن میں ذرائع ابلاغ پر موثر مہم چلانے پر بھی ضرور دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں