سندھ یونیورسٹی کا طالبعلم ساجن ملوکھانی حیدر آباد سے لاپتا
کراچی، وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے پریس سیکریڑی سسی لوہار نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 30 اگست کو جبری گمشدگیوں کے عالمی دن پر سندھ بھر میں احتجاجوں کے باوجود سندھ یونیورسٹی کے قانون کے شعبے کے طالبعلم ساجن ملوکھانی کو حیدرآباد سے اپنے گاﺅں جاتے ہوئے گرفتاری کے بعد لاپتا کردیا گیا، جبکہ اِس سے پہلے اسی فیملی کے دو اور راول ملوکھانی، نعیم ملوکھانی کو قاضی احمد نوابشاہ اور ٹنڈو آدم سے لاپتہ کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں انسانی حقوق کی شدید پامالیوں اور جبری گمشدگیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جِس پر ہم ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوامِ متحدہ اور تمام عالمی اداروں کے فورمز پر اپنا کیس رکھتے آئے ہیں اور اس مسئلے پر عالمی اداروں کو ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ سندھ اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر سخت نوٹس لیں۔
Load/Hide Comments


