بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے نئی کتابوں کے چھپائی کیلئے ہونے والے ٹینڈر میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے، حلیم صادق سمالزئی

کوئٹہ(آن لائن)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم صادق سمالزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان پہلے ہی تعلیمی حوالے سے پسماندہ صوبہ ہے چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ اپنے ذاتی مفاد کے حصول کے لئے نئی کتابوں کے چھاپنے کے لئے 21 جولائی سے اوپن ہونے والے ٹینڈروں کو اوپن کرنے کی بجائے اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے کے لئے لیت و لعل سے کام لے رہا ہے نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان اور نگران صوبائی وزیر تعلیم سے ہمدردانہ اپیل ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے تمام قانونی قواعد و ضوابط پورے کرتے ہوئے ٹینڈر کو بلا تاخیر کھولے تاکہ جن پرنٹنگ پریس مالکان نے ٹینڈر میں حصہ لیا ہے وہ اپنا ٹینڈر حاصل کرکے کتابوں کی چھپائی کا کام شروع کریں تاکہ تعلیم سال کے آغاز پر تعلیم سال شروع ہونے سے قبل بلوچستان کے طول و ارض میں موجود سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کو درسی کتب کی بروقت فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔ یہاں جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت آئے روز میڈیا کے ذریعے بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کا رونا تو روتے ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں اپنے ذاتی مفاد کی تکمیل کے لئے بیٹھے ہوئے آفیسران جوکہ تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی بجائے اور اس کی بہتری کے لئے کام کرنے والوں کو سہولت دینے کی بجائے ان کو مشکلات سے دو چار کرتے ہیں جس طرح چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ اور اپنے ماتحت آفیسران کے ساتھ ملکر 21 جولائی سے کھلنے والے ٹینڈروں کے حوالے سے اس میں حصہ لینے والوں سے اپنا کمیشن طے کرنے کے لئے مختلف حیلے بہانے کرکے 2 مہینے کی تاخیر کرکے ٹینڈر کو منسوخ کرنے کے لئے غیر قانونی ، غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کو دوام دینے کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اگر نگران حکومت نے اس کا نوٹس نہ لیا تو ہم ان اقدامات کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ نیب اور تحقیقاتی اداروں کو درخواست دینے کے ساتھ پریس کلب اور بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے سامنے احتجاج کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری مذکورہ حکام پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں