بلوچستان میں بجلی چوری میں ملوث 35 افراد کیخلاف مقدمات درج، متعدد کنکشن منقطع

کوئٹہ (یو این اے) کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو )کی جانب سے بجلی چوری کے خلاف آپریشن جاری ہے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو )حکام کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں بجلی چوری میں ملوث 387 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے درخواستیں متعلقہ تھانوں میں دائر کر دی گئی ہیںحکام کا کہنا ہے کہ اب تک 35 بجلی چوروں کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ ایف آئی آرکا اندراج کیا جا چکا ہے جب کہ صوبے کے اضلاع خضدار، سبی، مکران، لورلائی اور پشین میں بھی متعددغیر قانونی کنکشنز منقطع کردیے گئے ہیں۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بجلی چوری کرنے پر 2 دکانیں اور 2 منی پیٹرول پمپس بھی سیل کر دیے گئے ہیں۔ کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بجلی بلوں کے نادہندگان سے مجموعی طور 10کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم وصول کی گئی ہے کیسکو کی جانب سے تنبیہہ کی گئی ہے کہ بجلی چور، غیر قانونی اورخود ساختہ برقی کنکشنز فوری طور پر ہٹا دیں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ صارفین بجلی بلوں کی ادائیگی کے ساتھ اپنے ذمہ بقایاجات کی ادائیگی کو بھی یقینی بنائیںکوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر افسران کی بجلی چوری میں ملوث ہونے کی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی اور بے بنیاد قرار دیا ہے ترجمان نے کہا کہ پورے ملک کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں انتظامی بنیادوں پر تبادلے ہوئے ہیں اور کیسکومیں جو تبادلے ہوئے ہیں وہ بھی اس کاحصہ ہیںترجمان نے مزیدوضاحت کرتے ہوئے کہاکہ کسی کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی 29افسروں کا تبادلہ دوسرے علاقوں میں ہواہے بجلی کی چوری کو روکنے اور اس عمل کو مثر بنانے کی غرض سے تمام افسران کا صوبہ کے مختلف علاقوں میں تبادلہ کیا گیا ہے جوکہ صرف اور صرف انتظامی امورمیں بہتری اور مہم کو تیز کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں