بارڈر ٹریڈ مارکیٹوں کا قیام، امن و امان کیلئے 70 ارب روپے کی ایلوکیشن کا ازسر نو جائزہ لیں گے، جان اچکزئی

کوئٹہ (آن لائن) نگراں وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا ہے کہ حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے 70 ارب روپے کی ایلوکیشن کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی فورس کی تعیناتی کو یقینی بنائے گی اور نصیر آباد میں وومن پولیس اسٹیشن کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نگران کابینہ کے پہلے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں صوبائی مشیر برائے سوشل ویلفیئر اور وومن ڈویلپمنٹ شانیہ خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ بلوچستان نگران کابینہ کا پہلے اجلاس میں صوبے کی بہتری کے لئے مختلف فیصلے کئے گئے جس میں امن و امان کی بہتری کے حوالے سے حکومت کی جانب سے 70 ارب روپے کی ایلوکیشن کی گئی ہے ہم اس کا از سرنو جائزہ لیں گے اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرکے فنڈز کو صحیح طریقے سے استعمال میں لائیں گے اور جہاں پر امن وامان کی صورتحال بہتر ہے وہاں سے وفاقی یا صوبائی فورس کو کلوز کرکے جہاں پر ضرورت ہوگی وہاں پر تعینات کریں گے۔ حکومت کی جانب سے صوبے میں سمگلنگ کی روک تھام کے لئے وفاق کی جانب سے دی جانے والی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے زیرو ٹالرنس لائی جائے گی کیونکہ غیر قانونی اقدامات کو قانون کی آڑ میں تحفظ نہیں دیا جاسکتا حکومت سرحدی علاقوں میں بارڈر ٹریڈ مارکیٹ قائم کررہی ہے 2 مارکیٹیں فعال ہیں 3 مزید فعال بنائی جارہی ہے اور مزید 2 پر کام شروع کریں گے۔ اس کے علاوہ بلوچستان پولیس میں خواتین کی بھرتی کے علاوہ نصیر آباد کے علاقے میں وومن پولیس اسٹیشن کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے امن کی بحالی میں بھی خواتین کا کلیدی کردار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے 91ہزار پنشنرز کو بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق عارضی طور پر ریلیف دے سکتے ہیں ہمارے پاس دیگر صوبوں کی طرح وسائل نہیں ہیں ہمارے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں اس لئے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ کیونکہ اس مد میں 1.6 ارب روپے کا اضافی بوجھ بلوچستان حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا۔ بلوچستان کے زمینداروں کو دی جانے والی سبسڈی کے حوالے سے وفاق اپنا حصہ زمینداروں کے بلوں کے واجبات کی ادائیگی کی مد میں ادا کریں کیونکہ بارشوں اور سیلاب نے زمینداروں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ خاران اسٹوریج ڈیم جوکہ 2025 میں مکمل ہونا تھا اور اس پر 27 بلین روپے لاگت آئی تھی جس میں 9 بلین وفاقی حکومت نے ادا کرنے تھے 50 فیصد کام مکمل ہونے کے بعد ڈیم کا کام التوا کا شکار تھا اس لئے ہم نے پی سی ون روائز کیا ہے تاکہ اس منصوبے کو مکمل کیا جاسکے۔ سابق وزرا اور اراکین اسمبلی سے 45 گاڑیاں واپس لی گئی ہے 25 گاڑیاں تا حال جمع نہیں کرائی گئی ہماری درخواست ہے کہ تمام سابق ممبران اپنی سرکاری گاڑیاں واپس کریں اوررہائش گاہیں بھی خالی کردیں۔ عدالت عظمی کے فیصلے کی روشنی میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اور جن افسران کے پاس زیادہ ہیں کابینہ کے اگلے اجلاس میں رپورٹ طلب کی گئی ہے اس کی روشنی میں ایک سے زائد گاڑیاں رکھنے کے حوالے سے فیصلہ کرکے اخراجات کم کریں گے۔ ڈیرہ بگٹی سے اغوا ہونے والے کھلاڑیوں کی تا حال کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی بحفاظت بازیابی کے لئے کارروائیاں کررہے ہیں اور ملزمان کے قریب پہنچ چکے ہیں وہ بہت جلد بازیاب ہوجائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قبائلی تنازعات کے خاتمے اور جاری تصادم کو روکنے کے لئے قبائلی شخصیات جس میں چیف آف ساراوان نواب اسلم رئیسانی کی کاوشیں قابل ستائش ہے جنہیں ہم سراہتے ہیں وڈھ کے حوالے سے سردار اختر جان مینگل اور میر شفیق الرحمان مینگل سے رابطے ہوئے انہوں نے بھی تعاون کیا ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کچھی میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد مقامی پولیس اور لیویز نے کردار ادا کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر علاقے میں ایف سی کو تعینات کردیا گیا ہے ہماری خواہش ہے کہ ان معاملات کی بہتری کیلئے قبائلی شخصیات کو بھی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں