سی پیک کے گن گانے والوں نے بلوچستان کے ساحل کو گروی رکھوا دیا، حاجی لشکری
کوئٹہ (آن لائن) سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان نے کہاہے کہ بلوچستان میں ایجاد کئے گئے طبقے نے ذاتی و گروہی مفاد کیلئے صوبے کو ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، پندرہ سالوں تک سی پیک کے گن گاکر بلوچستان کے ساحل کو گروی رکھا گیااوریونیورسٹی لاہور میںبن رہی ہے، ریکودک کے تین سو بلین ڈالر کے قیمتی ذخیرہ کو اسمبلی کے پراسرار اجلاس میں فروخت کیا گیا، صوبے کے وہ سیاسی کارکن اور دانشورجو بلوچستان کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں وہ آگئے بڑھیں تو کہیں نہ کہیں معاملات بہتری کی طرف جاسکتے ہیں۔یہ بات انہوں نے بدھ کے روز سراوان ہاﺅس میں کوئٹہ سٹی سے تعلق رکھنے والے معززین کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ایجاد کئے گئے طبقے نے اپنے ذاتی اور گروہی مفاد کیلئے صوبے کو ڈبونے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے، دس پندرہ سالوں کے دوران سی پیک کا گن گاکر کچھ لوگوں نے اپنی جیبیںتو بھر یں کچھ کے پیٹ بھر گئے مگربلوچستان آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں پہلے تھا ہاں اتنی تبدیلی ضرور آئی ہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کو گروی رکھ کر گوادر کے نام سے یونیورسٹی لاہور میںبن رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جب عوامی نمائندگی دوغلے لوگوں کے ہاتھوں میں دی جائیگی وہاں حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید ابتر ہوتے جائیں گے اور ہم آہستہ آہستہ اس طرف بڑھ رہے ہیںبلوچستان میں فاٹا جیسے حالات پیدا کرنے کیلئے صوبے کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے ، انہوںنے کہاکہ جعلی انتخابات کے نتیجے میں ایوانوں تک پہنچائے گئے لوگ بلوچستا ن کے نمائندے نہیںان لوگوں کو صوبے پر مسلط کیا جاتا ہے، انہوںنے کہاکہ پروردہ قوتیں جس سماج سے اخلاقیات چھین کر قومی روایات کو پامال کریں وہاں تعلیم پر کون توجہ دیگا،مہذہب معاشروں میں پہلے لوگوں کی تربیت پر توجہ دی جاتی ہے پھر تعلیم پر ہمارے صوبے میں تو تربیت کو ہی تباہ کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ریکودک کی سرزمین جہاں تین سو بلین ڈالر کے قیمتی ذخائر صرف ایک مقام پر موجود ہیں صوبے کی آئندہ نسلوں کے اس وسیلہ کو بھی فروخت کردیا گیا ہے اس قدرتی وسیلہ کو65 کے ایوان میں نواب محمد اسلم خان رئیسانی کے علاوہ 64 ارکارن نے اسمبلی کے پراسرار اجلاس میں شرکت کرکے فروخت کیا۔ انہوںنے کہاکہ ہماری آنکھوں کے سامنے یہاں الیکشن کس طرح کرائے جاتے ہیں راتوں رات پارٹیاں بناکراقتدار ان لوگوں کے حوالے کیا جاتا ہے جو عوام کو جوابدہ نہیں ہیںایسے میں صوبے کے وہ سیاسی کارکن اور دانشورجو بلوچستان کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں وہ آگئے بڑھیں تو کہیں نہ کہیں معاملات بہتری کی طرف جاسکتے ہیں۔


