حکومتی عدم توجہ کے باعث لوگوں کا رجحان نجی تعلیمی اداروں کی جانب بڑھ رہا ہے، بی ایس او
نوشکی (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نوشکی زون کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں ڈراپ آﺅٹ و پرائیویٹ اداروں میں لوگوں کا رجحان غریب طلباءو طالبات کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں سے معاشرے میں اکثریت کا رجحان مکمل طور پر کم ہورہی ہے اور اعتماد کا فقدان بڑھ رہا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں نظام کے بہتری و ان پر لوگوں کا اعتماد کو بحال کرنے کے لےے معاشرے کے تمام لوگوں کا اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ گزشتہ کئی عرصے سے باشعور و گزر بسر کرنے والے اکثریتی لوگ اپنے بچوں کا پرائیویٹ اداروں میں بھیج رہے ہیں جس کی بنیادی وجوہات سرکاری شعبہ تعلیم کا محض چند لوگوں کی تنخواہوں و مرعات و کرپشن کا ذریعہ بنا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں معاشرے کی عدم دلچپسی تعلیمی عمل کو غریب و لاچار طبقے کے لیے مشکل بنا رہی ہے۔ نوشکی کے سرکاری اسکولوں میں مقابلے و محنت کی رجحان کو بہتر بنانے کے لیے شعوری سرگرمیوں، بزم ادب، تقریری، مقابلوں، سائنس کوئز و دیگر سرگرمیوں کی ضرورت ہے جبکہ اساتذہ کے کمی اسکولوں کی کروڑوں بجٹ کے باوجود کھنڈر کی شکل اختیار کرنے کی سہولیات کا فقدان بالخصوص ڈسپلن و دیگر مسائل کی وجہ سے خود ان ہی اسکولوں پر معاشرے میں بات کرنے والے لوگ بھی اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے تیار نہیں ہے، چند ایک سرکاری اسکولوں میں سائنس پریکٹیکل و مثبت سرگرمیوں کے رجحان کے علاوہ اکثریتی اسکولوں میں مثبت رجحانات انتہائی محدود ہے۔ نوشکی کے تمام باشعور طبقہ کو سرکاری تعلیمی اداروں کے بہتری لیے بھرپور اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بالخصوص اساتذہ کرام، والدین و نوشکی کی سیاسی و سماجی کارکن اپنے اسکولوں میں طلباءو طالبات کو درپیش مسائل پر ہم آواز ہونے کی ضرورت ہے، تاکہ اسکولوں میں مثبت رجحانات کو پروان چڑھا کر غریب کے بچوں کو بھی اچھی تعلیم فراہم کی جاسکے اگر اس اہم ایشو پر احساس نہیں کیا گیا تو آئندہ نسلیں کسی کو معاف نہیں کرینگے۔


