ایرانی پیٹرول کا کاروبار بند کرکے حکومت بلوچ عوام کو تاریکی میں دھکیلنا چاہتی ہے، سول سوسائٹی مشکے

مشکے (انتخاب نیوز) بلوچستان میں ایرانی ڈیزل کی بندش بلوچ عوام کے منہ سے نوالہ چھیننا، ظلم، غیر انسانی سلوک کے زمرے میں آتا ہے، حکومت بلوچستان عوام کو انصاف دلائے، سول سوسائٹی مشکے۔ بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں کی قومی مدنیات پنجاب تک پہنچتی ہیں لیکن بلوچ سماج کے اندر آج بھوک و پیاس سے کئی لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، سیکڑوں تعلیمی ادارے بند ہیں، بے روزگار نوجوانوں کی خودکشیوں کے کیسز سامنے آرہے ہیں، مشکے جیسے پسماندہ علاقے کے طلبا و طالبات جن کے تعلیمی اخراجات ڈیزل و پیٹرول کی کاروبار سے پورے ہوتے تھے آج وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورا نہ کرنے کی وجہ سے اپنے کالجز اور یونیورسٹیوں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ حکومت بلوچستان تماشائی دیکھ رہا ہے۔ موجودہ حکومت اپنی غیر انسانی پالیسیوں کے تحت بلوچستان میں غریب عوام کو تاریکی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ صدیوں سے جاری کاروبار سے حکومتی اداروں، پولیس و لیویز اور ایف سی نے خوب رشوتیں لی ہیں، ان پر قدغن لگانا غریب لوگوں کیلئے ایک سانحہ ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقے کے نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے دن رات تکالیف اور مشقت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کرکے دو وقت کی روٹی کماتے تھے آج انہیں دو وقت کی روٹی سے محروم کردیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بیروزگاروں کو نوکریاں فراہم کرے تاکہ بلوچستان سے بے روزگاری کا خاتمہ ہوجائے، لیکن ہر نئی حکومت آنے کے بعد دشمن پالیسی اپنا کر ڈیزل و پیٹرول جیسے کاروبار پر قدغن لگاتی ہے تاکہ تیل کے کاروبار کی بندش سے غریب مزید غربت اور جہالت کی زندگی گزارنے پر مجبور رہیں۔ حکومت بلوچستان صورتحال کا نوٹس لیکر ڈیزل و پیٹرول کے کاروبار کی فوری بحالی کیلئے اقدامات ا±ٹھائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں